ہر روز ہمارا دماغ کروڑوں پیغامات ہمارے جسم کو بھیجتا ہے تاکہ ہم ہزاروں کام سر انجام دے سکیں۔اس مصروف زندگی میں ہم کبھی کبھی دماغ کے بھیجے ہوئے پیغامات نظر انداز بھی کر دیتے ہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں کبھی کبھی ہمیں کسی سنگین مسئلے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہم آپکو ایک فہرست دے رہے ہیں جس میں کچھ نشانیاں موجود ہیں کہ آپکو معلوم ہو سکے کہ آپکے گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں ہا نہیں۔۔۔۔ یہ ان پیغامات پر مشتمل فہرسے ہے جو آپکا دماغ آپ کو دیتا ہے مگر آپ ان پیغامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔۔۔۔

10. نیند کا نہ آنا:

تصویر
نیند کا نہ آنا

جب آپ کے گردے گردے ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہوتے تو آپ کے جسم سے فاسد مادوں کا اخراج نہیں ہوتا اور یہ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ خون میں ان فاسد مادوں کی ذیادتی نیند میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ اور اس طرح جب آپ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو آپکے گردوں کے کام کرنے کی صلاحیت مزید کم ہو جاتی ہے۔

خبردار: وہ لوگ جو گردوں کے کسی موزی مرض کا شکار ہوتے ہیں ان میں نیند کی کمی بہت عام سی بات ہے۔ اسے سلیپ افینیا بھی کہتے ہیں۔

سلیپ افینیا ایک ایسا عرضہ ہے کہ جس میں مریض کا سوتے ہوئے سانس بند ہونے کا خدشہ بہت ذیادہ ہوتا ہے۔ ایسا صرف کچھ سیکنڈ یا پھر کچھ منٹ کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ پھر جیسے ہی سانس بحال ہوتا ہے تو ایک بہت بلند آواز کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ عارضہ بہت حد تک خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔۔  اگر آپ میں ایسی کوئی نشانی موجود ہے تو آج ہی اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

9. سر درد، بےچینی اور جسمانی کمزوری:

تصویر
سر درد، بےچینی اور جسمانی کمزوری

صحتمند اور توانا گردے ہمارے جسم کو وٹامن ڈی مہیا کرتے ہیں جو ہماری ہڈیا٘ں مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ہارمون بھی پیدا کرتا ہے جسے (Erythropoietin (EPO کہتے ہیں۔ یہ ہارمون خون میں سرخ ذرات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گردے ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہوئے تو اس ہارمون کی کمہ ہوگی جو خون میں سرخ ذرات کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ سرخ ذرات ہمارے جسم کو آکسجن پہچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آکسجن کی کمی سے ہمارا جسم اور پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں۔

خبردار: یہ بیماری ان لوگوں میں عام ہے جن کو امینیا کا عارضہ لاحق ہو۔ امینیا کا عرضہ اس وقت ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جب آپ کے گردے صرف 20 سے 50 فیصد کام کر رہے ہوں۔ اگر آپ کو بہت ذیادہ نیند آتی ہے اور اس کے باوجود آپکو جسمانی اور ذہنی کمزوری کا سامنا ہے اور یہ عارضہ آپکو بھی ہو سکتا ہے اور آپکو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

8. خشک جِلد اور خارش کا ہونا:

تصویر
خشک جِلد اور خارش کا ہونا

گردوں کا ٹھیک سے کام نہ کرنے سے جسم سے فاسد مادوں کا صحیحی اخراج نہیں ہوتا اور ایسا ہونے سے خون میں موجود سرخ ذرات کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ جب خون میں سرخ ذرات کی کمی ہوتی ہے تو جسم کو مکمل آکسجن اور منرل نہیں مل پاتے۔ منرلز کی کمی کا اثر سب سے پہلے انسانی جِلد پر ہوتا ہے اور یہ خشک ہونے لگتی ہے۔ اس سے ساتھ ساتھ منرلز کی کمی گردوں میں پتھری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

خبردار: اگر اپکو خشک اور جِلد اور خارش کا سامنا ہے تو فوراً پانی اور منرل لیں اور اس سے بھی ضروری بات کہ کوئی بھی دوا لینے سے پہلے اپنے معالج سے رابطہ کر لیں کیونکہ کوئی بھی دوا آپکے گردوں کو فائدہ کی بجائے نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

7. سانس کا ٹھیک نہ آنا اور زبان کا ذائقہ خراب ہونا:

تصویر
سانس کا ٹھیک نہ آنا اور زبان کا ذائقہ خراب ہونا

جب فاسد مادے خون میں شامل ہو جاتے ہیں تو زبان کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے اور منہ میں دھات کا ذائقہ آنے لگتا ہے۔ سانس کا بھی ٹھیک سے نہ آنا بھی ان زہریلے مادوں کا خون میں شامل ہونے کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ایسے مریض کا کچھ کھانے کا دل نہیں کرتا اور اس کے نتیجہ میں وزن کم ہو جاتا ہے۔

خبردار: اس کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں کہ آپکو کھانے کا ذائقہ دھاتی محسوس ہو۔ عام طور پر آپکے منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جاتا ہے جب آپ اس کا سبب بننے والی بیماری کا علاج کروا لیں، اس لیے بہتر ہے کہ آپ اب تمام علامات کے پائے جانے کے بعد اپنے معالج سے ضرور مل لیں۔

6. سانس کی چھوٹا ہونا:

تصویر
سانس کی چھوٹا ہونا

ریسرچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گردوں کے خراب ہونے اور سانس کے چھوٹے ہونے میں گہرا ربط ہے۔

اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ایک تو یہ کہ جسم میں موجود پانی پھیپھڑوں کی طرف چلا جاتا ہے اگر گردے خراب ہوں تو۔ دوسری یہ کہ امینیا کی وجہ سے جسم کو ٹھیک آکسجن نہیں ملتی اور مریض کا سانس چھوٹا ہو جاتا ہے۔

خبردار: سانس کے چھوٹا ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ دل کی بیماری، سانس کی بیماری، گردوں کا خراب ہونا، سگریٹ ہینا وغیرہ۔۔۔۔۔۔ اگر آپکو بھی چھوٹے سانس کا مسلہ درپیش ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔۔۔

5. ہاتھ، پاوں اور ٹخنوں میں سوجن:

تصویر
ہاتھ، پاوں اور ٹخنوں میں سوجن

جب گردے فاسد مادے جسم سے نکالنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ فاسد مادے جسم میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ہاتھوں، پاوں اور ٹخنوں میں سوجن پڑ جاتی ہے۔ جسم کے نچلے حصوں میں سوجن کا ہونا دل کی بیماریوں سے علاوہ جگر میں خرابی اور ٹانگ میں خون کی رکاوٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

خبردار: کبھی کبھار دوا کھا لینے سے، کھانے میں نمک کی مقدار کم کر دینے سے سوجن کم ہو جاتی ہے۔ مگر بہتر مشورہ یہی ہے کہ ڈاکٹر سے لازمی رابطہ کرنا چاہیے۔۔۔۔۔

4. کمر کا درد:

تصویر
کمر کا درد

گردوں کے خراب ہونے سے کمر میں درد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ درد اندرونی اور ٹھوڑا دائیں جانب پسلیوں کے بلکل نیچے ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار درد آگے کی طرح پیٹ میں اور کہلوں میں بھی محسوس ہو سکتا ہے۔

مشورہ: گردوں کی وجہ سے ہونے والے کمر درد میں درد سے ساتھ ساتھ بخار ہونا، الٹی آنا، بلڈ پریشر کا ذیادہ ہونا اور بار بار پیشاب کا آنا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپکو کمر درد کا سامنا ہے اور آپ دوا کھانے کے بعد بھی درد میں مبتلا ہیں تو پانی کے استعمال کو فورا1 ذیادہ کر دیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

3. مرجھائی آنکھیں:

تصویر
مرجھائی آنکھیں

گردوں کی خرابی کی سب سے پہلے نشانی یہ ہو سکتی ہے کہ پیشاب میں پروٹین کا آنا، اور ایسا ہونے سے آنکھوں کے گرد ہلکے پڑنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کا مرجھا جانا بھی ہو سکتا ہے۔ آنکھوں کے گرد ہلکوں کا سائز اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ آپکا گردہ کتنا پروٹین آپکے پیشاب میں شامل کر رہا ہے۔

مشورہ: آگر آپکو یقین ہے کہ مناسب مقدار میں پروٹین لینے کے باوجود آپکو سستی، بوجھل آنکھوں اور ہلکوں کا سامنا ہے تو اپنے ڈاکٹر سے اپنے لیے وقت بک کروا لیں۔

2. بلند فشار خون:

تصویر
بلند فشار خون

آپکا خون کی گردش کا نظام اور گردے اک دوسرے پر منحصر ہیں۔ گردوں میں چھوٹے چھوٹے نفرن ہوتے ہیں جو خون سے فضلہ اور اضافی سیالوں کو فلٹر کر دیتے ہیں۔ اگر خون کی نالیوں کی پرتنوں کو نقصان پہنچتا ہے تو، خون سے صفائی کرنے والے نوفنوں کو کافی آکسیجن اور غذائیت نہیں ملتی۔ اس لیے گردوں کی دوسری بڑی خرابی کی نشانی بلند فشار خون ہے۔

مشورہ: اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھیں تاکہ گردوں کے عارضے سے بچا جا سکے۔ فولک ایسڈ سے بھرپور کھانوں کا استعمال کریں۔

1. پیشاب کا رنگ تبدیل ہونا:

تصویر
پیشاب کا رنگ تبدیل ہونا

آپکے گردے پیشاب بنانے اور اس سے ذریعہ فاسد مادوں سے اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پیشاب کا بار بار آنا، اس کا رنگ تبدیل ہونا، مقدار تبدیل ہونا وغیرہ بلکل بھی نظر انداز نہیں کرنا چائیے۔۔۔۔ تبدیلیوں کی عام اقسام میں شامل ہیں:

خاص طور پر رات کے اوقات میں، پیشاب کرنے کی ضرورت میں اضافہ. 24 گھنٹوں میں 4 سے 10 دفعہ پیشاب کا آنا نارمل  سمجھا جاتا ہے۔ خون کے ذرات کا پیشاب کے ساتھ آنا اس بات کی علامت ہے کہ آپکے گردے مائع کو ٹھیک سے فلٹر نہیں کر رہے اور خون کو آپکے پیشاب میں شامل کر رہے ہیں۔

پیشاب میں بلبلے بننا اور اس کا خاص قسم کا گاڑھا ہونا بھی گردوں کی خرابی کی علامت ہے۔

Share: