کریلا وہ سبزی ہے جس کا نام سنتے ہی لوگوں کے چہرے پر کڑواہٹ بکھر سی جاتی ہے جبکہ کریلے بے شمار بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہیں۔مثال کے طور پر کریلے نظام تنفس کے امراض میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں‘جگر کے مسائل درپیش ہوں تو روزانہ ایک گلاس کریلے کے جو س پینے سے صرف ایک ہفتے میں فرق واضح ہوجاتا ہے۔کریلوں کا استعمال کیل ‘مہاسوں اور جلد کے انفیکشن سے نجات دلاتا ہے ‘یہ جسم میں گردش کرنے والے مضر آزاد خلیوں کو خارج کرتا ہے اوربڑھتی عمر کے اثرات کی رفتار کو سست کرتا ہے اس حوالے سے کریلے کے رس میں لیموں کا رس ملاکر پینا مفید ہے۔

ذیا بیطس کے حوالے سے کریلے خاصے معروف ہیں۔یہ بلڈ گلوکوز کی سطح کم کرنے کےساتھ انسولین کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اسی طرح کریلے میں موجود اجزاءلبلبے کے خلیات کی تعداد بڑھانے کے علاوہ انسولین بھی پیدا کرتے ہیں۔ کریلے آسانی سے ہضم ہوجاتے ہیں ‘ان میں موجود فائبر قبض نہیں ہونے دیتا ۔کریلے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو قابو میں رکھتے ہیں جبکہ شریانوں میں خون کی رکاوٹ دور کرکے دل کے دورے کا امکان کم کرتے ہیں ‘یہ خون کی شوگر میں کمی لاکر دل کو صحتمند رکھتے ہیں۔کریلے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور سبزی ہے جو میٹابولزم اور نظام ہاضمہ کو بہتر بناکر وزن میں جلد کمی لانے کا سبب بنتی ہے۔ کریلے کا جوس توانائی بڑھانے اور معیاری نیند لانے میں معاون ہے ۔

جراثیم کش کریلے کا جوس جسم سے زہریلے مواد کا اخراج کرکے خون کی گردش کو بہتر کرتا ہے‘یہ سبزی قبل از وقت سفید ہونے والے بالوں کا بھی علاج کرسکتی ہے جس کیلئے کریلے کے جوس کو سفید بالوں پر لگائیں‘ 10 دن میں ایک بار یہ عمل دہرانے سے یہ مسئلہ حل ہونے لگتا ہے۔ غذائیت کے لحاظ سے کریلوں میں وٹامن اے‘ڈی‘سی اور بی 6 ‘پروٹین اور پوٹاشیم کی بھی مقدار پائی جاتی ہے جبکہ کیلوریز اور کولیسٹرول کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

کریلوں کا استعمال قوت مدافعت بڑھاتاہے‘اسے پانی میں اُبال کر پینے سے موسمی بیماریوں کےساتھ ساتھ انفیکشن اور الرجی سے بھی حفاظت ملتی ہے‘کریلوں میں موجود وٹامن سی جسم میں موجود مضر صحت اجزاء کو زائل کردیتا ہے۔

کڑوے ہونے کے باعث کریلوں کا جوس خون کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے‘جس سے ایکنی یعنی کیل مہاسے ‘بلڈ انفیکشن ‘پھو ڑے ‘پھنسی اور جلد کی دوسری بیماریوں کےساتھ ساتھ خارش جیسے مسائل بھی حل ہوجاتے ہیں۔کریلوں میں فائیٹو نیوٹرنٹ اور پولی پیپٹائیڈ انزائم پائے جاتے ہیں جن سے خون میں انسولین کی افزائش ہوتی ہے جو خون میں شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے۔ کریلوں میں ہائپوگلیسمک ایجنٹ نامی ایک انزئم بھی پایا جاتا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 میں شوگر لیول متوازن رہتا ہے۔کریلے کے اینٹی آکسیڈنٹ اجزاءجسم سے فاضل مادوں سمیت چربی کو زائل کرتے ہیں ‘ اس کے روزانہ کے استعمال سے وزن میں واضح کمی آتی ہے۔کریلوں میں بیٹا کیروٹین کی موجودگی آنکھوں کے انفیکشن سے بچاتا ہے اور بینائی تیز کرتا ہے۔کریلوں میں مختلف انزائم پائے جاتے ہیں جن سے شریانوں میں رکاﺅٹ پیدا کرنے والی چربی اور مضرِ صحت اجزاءجسم سے نکل جاتے ہیں ‘ خون صاف اور دل صحتمند رہتا ہے۔
اگرچہ کریلے اور اس کا جوس صحت کیلئے فائدہ مند ہے مگر اس جوس کو روزانہ کم مقدار میں ہی پینا چاہئے ورنہ متلاہٹ اور پیٹ کے درد کی شکایت ہوسکتی ہے‘ حاملہ خواتین کو اس کی زیادہ مقدار پینے سے گریز کرنا چاہئے۔ اگر آپ بلڈ گلوکوز کم کرنے کی ادویات کے ساتھ کریلے کا استعمال کریں گے تو اس کا اثر بڑھ جائے گا‘ اس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی متاثر ہوسکتی ہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے اسے غذا کا حصہ بنائیں۔

Share: