یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ یونیورسٹی آف میامی ملر اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں کووڈ 19 سے مردوں کی قوت باہ (male fertility) پر ممکنہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق کے دوران کورونا وائرس سے ہلاک ہوجانے والے 6 مردوں کے پوسٹمارٹم کے دوران دریافت کیا گیا کہ ان میں سے کچھ کے اسپرم کے افعال متاثر ہوئے تھے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک مرد میں بھی وائرس کے آثار دریافت کیے جو بانجھ پن کے علاج کے عمل سے گزرا تھا اور کھ عرصے پہلے کووڈ 19 کا شکار تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مریض میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہا تھا مگر ٹیسٹیرون میں وائرس کو دریافت کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ قابل فہم ہے کہ کووڈ 19 مردوں کے اسپرم کے افعال کو ہدف بناتا ہے کیونکہ جس ریسیپٹر کی مدد سے وہ خلیاات کو متاثر کرتا ہے، وہ جسم کے متعدد اعضا جیسے گردوں، پھیپھڑوں، دل اور اسپرم وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں جب کسی وائرس سے مردوں کی قوت باہ پر اثرات مرتب ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہو، اس سے قبل ممفس سے بھی ایسا ہوکا ہے۔

اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے وائرس کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں ایک قدم آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ناروے کی برجن یونیورسٹی نے بھی اس حوالے سے تحقیق شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ برجن یونیورسٹی کی اس تحقیق کے لیے کووڈ 19 کے مریضوں کے اسپرم کے نمونے اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

اب تک 30 سے 40 سال سے زائد عمر کے 50 مریضوں کے نمونے حاصل کی گئے ہہیں جبکہ محققین طالبعلموں کو بھی اس تحقیق کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

محققین کی جانب سے ان افراد کے نمونے ایک سال بعد مزید ٹیسٹنگ کے لیے جمع کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ اس بیماری سے مدافعتی نظام کی تششکیل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے فالو اپ تحقیقی رپورٹس میں دیکھا جائے گا کہ کووڈ 19 سے مستقبل قریب میں بچوں کا مدافعتی نظام کس حد تک متاثر ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ مدافعتی نظام ہر طرح کی بیماریوں سے لڑنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتا ہے، ہم اس تحقیق کے ذریعے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مدافعتی نظام کس حد تک کووڈ 19 سے متاثر ہوتا ہے اور یہ بیماری مستقبل کی نسل کے مدافعتی نظام پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے۔

Share: