| 6 سال

کرونا وائرس کی ایک اور قسم منظر عام پر

Faria Fatima

پہلے کورونا وائرس نے ہی دنیا کو عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اب چینی سائنسدانوں نے ایک مریض میں اس وائرس کی ایک نئی قسم دریافت کر لی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس کے مریض پہلی بار علامات ظاہر ہونے کے لگ بھگ ڈیڑھ سے دو ہفتوں بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں اور 20 دن تک ان کے ٹیسٹ منفی آنے لگتے ہیں لیکن اس نئی قسم کا مریض 49 دن تک اس میں مبتلا رہا۔

رپورٹ کے مطابق اس شخص کو کورونا وائرس لاحق ہوا اور اس میں بہت مدھم علامات رہیں، تاہم 49 دن بعد جا کر اس میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا۔ سائنسدانوں نے اس مریض کو لاحق ہونے والے وائرس کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ کورونا وائرس کی ایک میوٹیٹڈ (Mutated) قسم ہے جس میں وائرس کے کچھ جینز میوٹ پائے گئے۔ یہ مریض اب تک کا دنیا میں سب سے طویل عرصے تک کورونا میں مبتلا رہنے والا شخص ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے اس مریض کے جسم میں کورونا وائرس کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے نکالا گیا پلازمہ داخل کیا جس میں اینٹی باڈیز موجود تھیں، اس کے بعد اس مریض کی حالت سنبھلنی شروع ہوئی اور 49 دن بعداس میں وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا۔ یہ شخص چینی شہر ووہان کا رہائشی تھا اور 8 فروری کو ہسپتال آیا تھا۔

اس شخص کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لی تان کا کہنا تھا کہ ”اس سے قبل ایک مریض میں وائرس 37 دن تک موجود رہا۔ 49دن تک وائرس میں مبتلا رہنے والے شخص کا جسم خود سے وائرس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا چنانچہ اسے صحت مند مریضوں کے جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز دینی پڑیں۔“

Faria Fatima

میرا نام فارینہ فاطمہ ہے۔ مجھے سائنس، موبائل کے بارے جاننا، صحت کے متعلق لکھنا اور پڑھنا پسند ہے۔ میں آپ کو ٹیکنالوجی کی دنیا سے باخبر رکھون گی اور آپ کے لیے نت نئے مضامین لکھوں گی۔ کیونکہ مجھے ایسا کرنا اچھا لگتا ہے۔ اگر میرے مضمون میں کوئی غلطی آپ کی نظر سے گزرے تو براہ کرم آگاہ اور درگزر کیجئے گا۔ اور اگر میرا لکھا مضمون آپ کو اچھا لگے تو اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں تاکہ اُن کے علم میں بھی اضافہ ہو سکے۔۔۔۔ شکریہ