| 8 سال

گُڑ کے فوائد

Faria Fatima

اس جدید دور میں نئی نسل ہی نہیں بلکہ پرانے لوگ بھی گُڑ سے نہ صرف پرہیز کرتے ہیں بلکہ اسے دیہات اور گاوں والوں کے لیے ہی مخصوص سمجھتے ہیں۔ لیکن طبئ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہی گُڑ نہ صرف صحت بخش ہے بلکہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔ گُڑ گنے کے رس سے بنایا جاتا ہے جسے عربی میں فارلیڈ، فارسی میں قندسیاہ بنگالی میں گُڑ اور انگریزی میں jaggery کہا جاتا ہے۔ کسان عام طور پر بیلنے کے ذریعہ گنے کا رس نکلتا ہے اور بعد میں اسے پکا کر گُڑ بناتا ہے۔ گنے کے رس کو پکا کر جما لیا جاتا ہے پھر اسے سخت ہاتھوں سے سفوف بنا لیا جائے تو اسے شکر کہتے ہیں اور اس کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے۔ بعض دفعہ اس کا رنگ سرخی مائل سیاہ اور زردہ بھی ہو جاتا ہے اور ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔

360 ڈگری سیلفی

اس کا مزاج گرم ہوتا ہے اور دوسرے درجے میں تر ہوتا ہے۔ پرانا گُڑ گرم و خشک ہوتا ہے، اسکے درج ذیل فوائد ہیں۔

  • کھانے کو ہضم کرتا ہت اور طبعیت کو نرم کرتا ہے۔
  • بلغم کو چھانٹتا ہے۔
  • دمہ، کھانسی اور درد سینہ میں گُڑ کارگر ہے۔
  • گوشت کو گلانے کے لیے اس میں ڈال دیا جائے تو جلد گل جاتا ہے۔
  • جسم کو طاقت دیتا ہے۔
  • جسم کو توانا اور موٹا کرتا ہے۔
  • ایک سال پرانا گُڑ خون صاف کرتا ہے۔
  • باہ کو بڑھاتا ہے۔
  • جوڑوں کی درد میں مفید ہے۔
  • ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔
  • جسم کی کھال کو لچکدار بناتا ہے۔
  • گُڑ کھانے سے جھریاں تھیک ہو جاتی ہیں۔

 

گُڑ کا ذیادہ استعمال بھی نقصاندہ ہے۔ یہ دانتوں کے لیے مضر ہے اس کے ساتھ ساتھ خون میں بھی شکر کی مقدار بڑھاتا ہے۔

Faria Fatima

میرا نام فارینہ فاطمہ ہے۔ مجھے سائنس، موبائل کے بارے جاننا، صحت کے متعلق لکھنا اور پڑھنا پسند ہے۔ میں آپ کو ٹیکنالوجی کی دنیا سے باخبر رکھون گی اور آپ کے لیے نت نئے مضامین لکھوں گی۔ کیونکہ مجھے ایسا کرنا اچھا لگتا ہے۔ اگر میرے مضمون میں کوئی غلطی آپ کی نظر سے گزرے تو براہ کرم آگاہ اور درگزر کیجئے گا۔ اور اگر میرا لکھا مضمون آپ کو اچھا لگے تو اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں تاکہ اُن کے علم میں بھی اضافہ ہو سکے۔۔۔۔ شکریہ