ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم سب کو ہی ہیکرز سے خطرہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ پاسورڈز ہیک کرنے میں مہارت رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھی ہم ہی پاسورڈ ہیک کرنے میں ان کی مدد کردیتے ہیں۔

آپ کو یہ بات سننے میں عجیب لگ رہی ہوگی کہ ہم کیسے کسی ہیکر کی پاسورڈ ہیک کرنے میں مدد کرسکتے ہیں؟ لیکن آج ہم آپ کے اس ہی سوال کا جواب دیں گے جس سے آپ اب احتیاط بھی برتنا شروع ہوجائیں گے۔

آج ہم آپ کو ایسی عام غلطیوں کے بارے میں بتانے ہیں جوپاسورڈ لگاتے وقت ہم سب کہیں نہ کہیں کر ہی جاتے ہیں، ان کو جاننے کے بعد آپ اب ان غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔

انتہائی آسان اور عام پاسورڈز:

ہم اپنے موبائل، کمپیوٹر یا آئی ڈیز کہیں بھی ایسے پاسورڈز رکھ دیتے ہیں جو بے حد آسان ہوتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے کیونکہ ان آسان پاسورڈز کو ہیکرز کو ہیک کرنے میں بالکل پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے پاسورڈ میں تاریخِ پیدائش یا عام نمبر جیسے 1234 یا کسی برانڈ کا نام رکھ دیتے ہیں جو کہ ہیک ہونا بے حد آسان ہے۔

پاسورڈ میں نمبر اور خاص حروف کا استعمال نا کرنا:

اکثر ہم پاسورڈز میں ’الفابیٹ‘ کا ہی استعمال کرتے ہیں جو کہ ایک غلطی ہے، ہم سب کو اپنا پاسورڈ منفرد اور مشکل رکھنا چاہیے اور اس ضمن میں ہمیں اپنے پاسورڈ میں نمبرز اور خاص حروف کا بھی استعمال کرنا چاہیے جن میں (#$%^^&*_+) یہ سب شامل ہیں۔

مختلف ویب سائٹ کے لیے ایک ہی پاسورڈ رکھنا:

ایسا بھی ہم میں سے بہت لوگ کرتے ہیں کہ مختلف ویب سائٹ کے لیے ہم اپنی آسانی کے لیے ایک ہی پاسورڈ رکھ دیتے ہیں، اس طرح کرنے سے ہیکرز کو آئی ڈیز ہیک کرنے میں حد آسانی ہوجاتی ہے۔

لمبے عرصے تک پاسورڈ تبدیل نا کرنا:

ہم میں سے اکثر لوگ کام کی وجہ سے یا ذہن سے نکل جانے کی وجہ سے کئی عرصے تک اپنا پاسورڈ تبدیل ہی نہیں کرتے تو ضروری ہے کہ آپ اپنے پاسورڈ کو تبدیل کریں تاکہ آپ اسے ہیکرز سے بچا سکیں۔

بے حد چھوٹا پاسورڈ:

ہم سمجھتے ہیں کہ مشکل اور چھوٹا پاسورڈ ہمارے لیے محفوظ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ چھوٹا پاسورڈ ہیکرز باآسانی کریک کر لیتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ آپ کا پاسورڈ 15 اعداد سے بڑا ہو۔

مضبوط پاسورڈ کیسے بنایا جائے:

سب سے بہترین پاسورڈ رکھنے کے لیے آپ نیچے دئیے گئے لنک کا استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ اس سے کاپی کیا جانے والا پاسورڈ صفحہ ریلوڈ کرتے ہی ختم ہو جائے گا۔

پاس ورڈ جنریٹر

Share: