کیا ہم بہترین مستقبل کی طرف گامزن ہیں؟

سائنسدانوں کے مطابق کس نے استعمال شدہ ٹوائیلٹ ٹشوز کی مدد سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے-

محقیقین کے مطابق وہ استعمال شدہ بےکار ٹوائیلٹ ٹشوز کی مدد سے ویسے ہی بجلی پیدا کر سکتے ہیں جیسا کہ قدرتی گیس پلانٹ سے پیدا کی جاتی ہے اور قیمت بھی گھریلو شمسی پینلز جیسی ہی ہوگی-

پائیدار کیمسٹری کی محقیقین نے اپنےمطالعہ کے لیے نیدرلینڈز میں ایمسٹرڈیم یونیورسٹی اور یوٹراٹ یونیورسٹی میں دو مراحل والا طریقہ ایجاد کیا جس کا مقصد گرامی ٹوائیلٹ پیپرز کو ایسی حالت میں تبدیل کرنا ہے جس سے یہ زیادہ سے زیادہ لکڑی جیسا دیکھے جس سے وہ بنایا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے استعمال شدہ ٹوائیلٹ پیپرز کو اکٹھا کیا اس کے بعد انہوں نے ان پیپرز کو خشک کیا اور چیمبرمیں ڈال کر1,650 فارن ہائیٹ سکیل پرگیس میں تبدیل کر دیا اس کے بعد گیس میں سے تاروں، خار اور نمی کو الگ کرد یا تاکہ اس میں میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائڈ باقی رہ جائیں- اس کے بعد گیس کو سولڈ آکسائیڈ فیول سیل میں ڈالا گیا جوکہ میتھین سے کم اخراج والی بجلی کو پیدا کرنے کے لیے زیادہ ٹمپریچر کو کنٹرول کرتا ہے-

یہ طریقہ کارکردگی اور استحکام کو بہتر بنانے کی غرض سے ڈیزائن کیا گیا تھا- فیول سیل کی مدد سے بقایا حرارت پیدا کی جاتی ہے جس کو بعد میں ٹوائیلٹ پیپرز کو خشک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ پورا عمل کوائل پلانٹ کے کاربن اخراج کا چھٹا حصہ فراہم کرتا ہے-

یو ایس انرجی انفارمیشن ڈیٹا کے مطابق یہ ٹوائیلٹ پیپرز کی طاقت کو قابل تجدید ذرائع کے مطابق تبدیل کر دیتا ہے اس سسٹم کی بند لوپ نیچر اور فیول سیل کی کارکردگی کا شکریہ- محقیقین کے مطابق یہ عمل استعمال شدہ ٹوائیلٹ ٹشوز کے ساتھ دو یا تین گنا زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے-

محقیقین کے مطابق،” اگرایمسٹرڈیم ضلع جو کہ محقق کا آبائی ملک ہے میں تمام ٹوائیلٹ پیپرز کو روزانہ بجلی میں تبدیل کیا جائے تو واٹر ٹریٹمنٹ خصوصیات کو پانی سے الگ کرکےاپنی انرجی کا 40 فیصد حصہ محفوظ کر سکیں گے” علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ حاصل شدہ انرجی جو انہوں نے شامل کی ہے وہ 6,400 گھروں جتنی توانائی رکھتی ہے-

محقیقین نے یہ بھی کہا ہے ابھی سے اپنے استعمال شدہ ٹوائیلٹ پیپرز کو محفوظ کرنا شروع نا کریں جب تک پلانٹس ان پیپرز کو معقول قیمت پر حاصل کرنا شروع نا کردیں کیونکہ ان کو وسائل کی بجائے فضول چیز سمجھا جاتا ہے اور فیول سیل ٹیکنالوجی ابھی اس پوائنٹ پر نہیں پہنچی جہاں اس سسٹم کو استعمال کرنا قیمتوں کو متاثر کر سکے-

Share: