چونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران تمام نیٹ ورک دباؤ کا شکار ہیں، اوکلا کے مارچ اسپیڈ ٹسٹ گلوبل انڈیکس کے مطابق مارچ میں جرمنی براڈ بینڈ کی رفتار کے لحاظ سے اپنے 31ویں پوزیمن پرقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔

موبائل براڈ بینڈ کے معاملے میں بھی ، فروری 2020 کے مقابلہ میں جرمنی آٹھ پوائنٹ اوپر آکر 37ویں نمبر پر آ چکا ہے۔

اوکلا کے مارچ اسپیڈسٹ گلوبل انڈیکس کے مطابق ، متحدہ عرب امارات موبائل براڈبینڈ اسپیڈ کے لئے پہلی پوزیشن پر ہے جس کی اوسط ڈاؤن لوڈ 83.52 ایم بی پی ایس ہے اور سنگاپور 197.26 ایم بی پی ایس کے ڈاؤن لوڈ سپیڈ کے سرفہرست اور پہلے نمبر پر اپنی پوزیشن قائم رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 کے آغاز سے ہی ہندوستان میں اوسط مقررہ براڈ بینڈ کی رفتار کم ہورہی ہے ، جنوری میں 41.48 ایم بی پی ایس اور مارچ میں 35.98 ایم بی پی ایس سپیڈ ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ، مقررہ براڈ بینڈ پر ڈاؤن لوڈ کی رفتار فروری میں 39.65 ایم بی پی ایس سے کم ہوکر مارچ میں 35.98 ایم بی پی ایس ہوگئی ہے۔

مزید برآں ، موبائل ڈاؤن لوڈ کی رفتار میں معمولی کمی آئی، فروری میں 11.83 ایم بی پی ایس سے مارچ 2020 میں 10.15 ایم بی پی ایس ہوگئی۔

اوکلا کے سی ای او ڈوگ سٹلز نے کہا ، “جب نیٹ ورک استعمال ہورہے ہیں، جیسے وہ COVID-19 کی وجہ سے ہندوستان میں لاک ڈاؤن کے اس بے مثال وقت میں ہیں ، یہ قدرتی بات ہے کہ انہیں کسی حد تک سست روی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

اگرچہ انٹرنیٹ کو خود ہی اپنے استعمال کے دباو کو کنٹرول کرنا چاہئے، جیسا کہ لاک ڈاون کی وجی سے لوگ اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں کو آن لائن تیزی سے بڑھاتے رہتے ہیں، یہ بھی ایک وجہ ہے کہ کچھ ممالک میں انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اوکلا کا اسپیڈسٹ گلوبل انڈیکس ہر ماہ دنیا بھر سے ملک کی سطح پر انٹرنیٹ اسپیڈ ڈیٹا کا موازنہ کرتا ہے۔ زیل میں مارچ کا گلوبل انڈیکس دیا گیا ہے جس میں آپ اپنے ملک کی پوزیشن دیکھ سکتے ہیں۔

Share: