سکیورٹی ماہرین نے اینڈرائیڈ فون صارفین کو ایک اور بری خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چیک پوسٹ نامی ایک فرم نے دعوہ کیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر سے قریب ایک ارب اینڈرائیڈ فون ہیکرز نے نشانے پر ہیں جنہیں کبھی بھی ایک ایپ انسٹال کر کے ہیک کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انسٹال کرنے کے بعد اینڈرائیڈ فون ایک جاسوس ڈیوائس میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

رپوٹ کے مطابق تمام اینڈرائیڈ فون جن میں کوالکوم (Qualcomm)کمپنی کا ’سنیپ ڈریگن‘ (Snapdragon)پروسیسر استعمال ہو رہا ہے، ایسے تمام فون بآسانی ہیک کیے جا سکتے ہیں۔ کیا آپ کے پاس بھی تو ایسا فون نہیں کہ جس میں کوالکوم (Qualcomm)کمپنی کا ’سنیپ ڈریگن‘ (Snapdragon)پروسیسر استعمال ہو رہا ہو؟ ماہرین نے ایسے فونز میں ۴۰۰ ایسی حساس خامیاں تلاش کی ہیں کہ جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز ان فونز میں بآسانی داخل ہو سکتے ہیں اور صارف کا ڈیٹا چوری کر سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت یہ چیپ سامسنگ، گوگل، شیاﺅمی، ایل جی اور ون پلس سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے فلیگ شپ فونز میں استعمال ہو رہی ہے اور گر ہیکرز کے ہاتھ سنیپ ڈریگن کے حامل اینڈرائیڈ فونز کی یہ 400خامیاں لگ گئیں تو دنیا میں 1ارب سے زائد لوگ کسی طور اپنے ڈیٹا کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گے۔

دوسری طرف کوالکوم کا کہنا ہے کہ وہ سنیپ ڈریگن چپ میں موجود ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایپل صارفین ان خامیوں سے محفوظ ہیں کیونکہ ایپل آئی فونز میں اپنے پروسیسرز مہیا کرتا ہے۔

Share: