بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ آنسو گیس محض ایک دھواں ہوتا ہے جس سے آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں جو کہ غلط ہے آئیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے

آنسو گیس نام ہونے کے باوجود ، آنسو گیس کوئی گیس نہیں ہے۔ یہ ٹھوس یا مائع کیمیکل پر مشتمل ہوتا ہے ، عام طور پر سپرے یا پاؤڈر کے اندر۔

یہ مادے نمی کے ساتھ ردعمل دیتے ہیں تاکہ درد اور جلن ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر جسم کے نم علاقوں ، جیسے آنکھیں ، منہ ، گلے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔

آنسو گیس سانس کے ذریعے جسم کے اندر جاتے ہی سب سے پہلے پھیپھڑوں میں سوجن پیدا کرتا ہے اور پھیپھڑوں کی دیواروں کو ایک دوسرے کے ساتھ چپکا دیتا ہے جس سے آکسیجن کا داخلہ جسم میں بند ہو جاتا ہے۔

اسکے ساتھ ہی یہ سانس کی نالی میں شدید سوزش پیدا کرتا ہے جس سے سینے میں شدید درد پیدا ہوتا ہے۔

منہ اور گلے کی اندرونی جلد خشک ہو جاتی ہے ناک سے پانی نكلنے لگتا ہے جس سے منہ اپنے مکمل سائز میں کھل جاتا ہے منہ سے رال نكلتی ہے

ان سب سے خطرناک آنکھوں میں جلن پیدا ہونے کے ساتھ پانی نکلنا آنکھوں کی سوجن شروع ہونا اگر آپ 20 سیکنڈ تک اس گیس سے باہر کھلی ہوا میں نہ نکل پائیں تو تھوڑی دیر کیلئے آنکھوں کی نظر چلی جانا ہے۔

نگلنے میں دشواری متلی اور قے سانس لینے میں دشواری کھانسی گھرگھراہٹ جلد کی جلن خاص طور پر چہرے کی جلد پر کھولتے پانی کی سی جلن ایک شخص سینے میں سخت احساس بھی محسوس کرسکتا ہے ، یا اسے گھٹن محسوس کرتا ہے جس سے وہ بےہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔

آنسو گیس میں بہت سے مختلف کیمیکل شامل ہوتے ہیں

کلوروسیٹوفینون (CN) , کلوروبینزائلیڈینیئملونونیٹریل (CS) , کلوروپیکرین (PS) ,بروموبینزیلسیانائڈ (CA) ,ڈائینزاکزازپائن (CR) مختلف امونیا کے کیمیکل کے امتزاج

آنسو گیس کی اقسام کے دیگر ناموں میں گدی ، پسی ہوئی سرخ و کالی مرچ کا پاؤڈر ، شملہ مرچ پاؤڈر ، اور اعصاب شل کرنے والے ایجنٹ شامل ہیں۔

آنسو گیس کی طاقت مختلف لوگوں کیلئے مختلف ہوتی ہے۔ کم قوت مدافعت والے لوگ دو منٹ تک آنسو گیس میں گھرے رہنے کی وجہ سے بےہوش جبکہ 10 منٹ سے زائد گھرے رہنے کی وجہ سے موت ہو سکتی ہے۔

آنسو گیس کا اثر کیسے کم کیا جائے؟

  • آنسو گیس کا اثر کم کرنے کیلئے زیادہ سے کھانے کا نمک منہ میں پهكی کی طرح ڈال کر نگلا جاۓ تو آنسو گیس کا اثر صرف آنکھوں کی جلن تک محدود رہتا ہے۔
  • اسکے علاوہ تازہ ٹھنڈا پانی پینے کیلئے استعمال کیا جائے تو اندرونی اثر کم ہو جاتا ہے۔
  • کپڑے کو سیب کے سرکے میں بھگو کر اس سے منہ کو مضبوطی سے ڈھانپ لینے سے آنسو گیس کے مضر اثرات سے کچھ حد تک بچا جا سکتا ہے۔
  • کپڑے کے اندر چونے یا لیموں کا رس لگانا اور اس سے منہ کو مضبوطی سے ڈھانپنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
  • ایک بندنا کو پانی میں بھگو کر اس سے اپنے منہ کو مضبوطی سے ڈھانپیں۔
  • چارکول کو توڑنا، ایک گیلے کپڑے کو مٹی سے لپیٹنا، اور اس سے اپنی ناک اور منہ کو مضبوطی سے ڈھانپنا کچھ تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
Share: