آرٹی فیشل انٹیلی جنس کےلئےنئےقوانین

گوگل اورالفا بیٹ کےسی ای اونےاے آئی ٹیکنالوجی کےحوالےسے نئےقوانین کامطالبہ کیاہے۔گوگل اورالفابیٹ کے سی ای اوسندر پچائی نےآرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کےحوالےسےنئےضوابط کا مطالبہ کرتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کے خطرات جیسے چہرے کی شناخت اور ڈیپ فیکس وغیرہ پر روشنی ڈالی ہے. سندرپچائی نے اپنی تحریر میں لکھا ‘آرٹی فیشل انٹیلی جنس کوریگولیٹ کرنےکےحوالے سےمیرے ذہن میں کوئی شک نہیں، یہ بہت اہم ہے، بس واحد سوال یہ ہے کہ یہ کام کیسے کیا جائے’۔

اگرچہ انہوں نے کہا کہ اس ٍحوالے سے نئے ضوابط کی ضرورت ہے مگر اس کے ساتھ اے آئی کے متعدد پہلوؤں کے بارے میں محتاط سوچ پر بھی زور دیا۔ ان کاکہناتھاکہ کچھ مصنوعات مثلاً خودکار ڈرائیونگ گاڑیوں وغیرہ کےلیےنئےمناسب قوانین متعارف کرائےجانےچاہیے،مگر طبی سہولیات کے لیے موجودہ فریم ورک کا اطلاق اے آئی پر کام کرنے والی مصنوعات پر ہونا چاہیے۔ ان کےبقول ‘ہماری جیسی کمپنیوں کو صرف نئی ٹیکنالوجی کو تیار کرنے اور مارکیٹ کو انہیں استعمال کرنے کا موقع دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنایا چاہیے کہ یہ ٹیکنالوجی ہر ایک کو دستیاب ہونے کے ساتھ اچھے مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکے’۔

الفابیٹ دنیاکی چند اہم ترین اے آئی کمپنیوں میں سےایک ہےاورسندربچائی نے زوردیاکہ عالمی ضابطوں کی تشکیل کےبارےمیں بین الاقوامی ہم آہنگی بھی انتہائی ضروری ہے۔ امریکااور یورپی یونین کے قوانین میں تضاد کی وجہ سے گوگل جیسی کمپنیوں کو اضافی اخراجات اور تیکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مگرسندرپچائی نے اپنے مضمون میں اس حوالے سے کمپنی کے اپنے ضابطوں پر بھی بات کی اور ان کا کہنا تھا ‘کمپنی کے اصول و ضوابط ٹیکنالوجی کے مخصوص استعمال جیسے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نگرانی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی وغیرہ کی سپورٹ پر پابندی عائد کرتے ہیں’۔

انہوں نےکہاکہ اے آئی ٹیکنالوجیز کے خطرات اورمثبت پہلوؤں کے درمیان توازن کی ضرورت ہے۔