2020 میں اسمارٹ فونز میں کن تبدیلیوں کی توقع ہے؟

سال 2019 میں اسمارٹ فونز کی دنیا میں چند نئے رجحانات سامنے آئے اور اب سال 2020 میں بھی انہی کا غلبہ رہے گا۔

گزشتہ سال اولین 5 جی فونز سامنے آئے جن میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بہت زیادہ تیز تھی جبکہ فولڈ ایبل اسکرین والے فون جیسے گلیکسی فولڈ، ہواوے میٹ ایکس اور موٹرولا ریزر وغیرہ بھی متعارف ہوئے۔

گزشتہ سال فاسٹ چارجنگ کے ساتھ بیٹریوں کے دورانیے میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، آپریٹنگ سسٹمز میں نئے اضافے جیسے ڈارک موڈ اور ڈیجیٹل اسسٹنٹ زیادہ اسمارٹ ہوگئے جبکہ فون کیمروں میں نئے سنسرز شامل کیے گئے، متاثر کن پیری اسکوپ زوم ٹیکنالوجی اور پکسل 4 میں اسٹرو فوٹوگرافی وغیرہ دیکھنے کو ملے۔

تاہم اب ان فیچرز کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ نئی ٹرکس 2020 متعارف ہوں گی۔

درج ذیل میں آپ وہ تبدیلیاں جان سکیں گے جو ممکنہ طور پر اس سال فونز کا حصہ بن سکتی ہیں۔

فائیو جی فونز زیادہ عام ہوں گے
فائیو جی فونز زیادہ عام ہوں گے

 

فائیو جی نیٹ ورکس 2019 میں چند ممالک میں متعارف ہوئے اور ابھی بہت کم فونز میں اس ٹیکنالوجی کو سپورٹ کیا جارہا ہے، ان میں سے بھی بیشتر فونز فلیگ شپ اور بہت مہنگے ہیں۔

سام سنگ نے ایک بیان میں بتایا کہ اس نے 2019 میں 67 لاکھ فائیو جی فونز فروخت کیے، دوسری جانب کچھ برانڈز کی جانب سے سستے فائیو جی فونز جیسے شیاﺅمی می 9 پرو پر کام ہوا ہے۔

تاہم مجموعی طور پر کچھ ایسا خاص نہیں ہوا کیونکہ ان فونز کے اندر موجود چپس زیادہ موثر نہیں جبکہ فائیو جی کنکشن پر بیٹری لائف تیزی سے ختم ہوتی ہے اور فائیو جی فونز بہت زیادہ گرم بھی ہوجاتے ہیں جس کے باعث صارفین کو فائیو جی کنکشن بند کرنا پڑتا ہے تاکہ فون کو خطرناک حد تک گرم ہونے سے بچایا جاسکے۔

مگر سال 2020 میں فائیو جی نیٹ ورکس کو توسیع ملے گی تو فونز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا بلکہ بیشتر کمپنیاں فائیو جی فونز کی تیاری پر زیادہ زور دیں گی، جب فائیو جی نیٹ ورکس کی توسیع ہوگی تو لوگوں کو زیادہ تیز ڈیٹا اسپیڈ تک رسائی ملے گی اور بڑی فائلز بہت تیزی سے ڈاﺅن لوڈ ہوں گی، ویڈیو کالز میں آسانی ہوگی، ریئل ٹائم گیمز اور اے آر تجربے کے لیے اچھے گرافکس فون میں موجود ہوں گے۔

فولڈ ایبل فونز زیادہ بہتر ہوں گے
فولڈ ایبل فونز زیادہ بہتر ہوں گے

 

اگر 2019 میں فولڈایبل فونز کو زندگی ملی تو 2020 تعین کرے گا کہ ان فونز کا مستقبل ہے یا یہ بھی تھری ڈی ڈسپلے کی طرح جلد لوگوں کے ذہنوں سے فراموش ہوجائیں گے۔

اگر فولڈ ایبل فون کی بات کریں تو سام سنگ، موٹرولا اور ہواوے کی جانب سے فولڈایبل فونز متعارف کراچکے ہیں اور ہر ایک کا اپنا ڈیزائن ہے۔

سام سنگ کے گلیکسی فولڈ میں کتاب جیسا ڈیزائن ہے جو کھل کر ٹیبلیٹ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جبکہ ہواوے میٹ ایکس ریپ اراﺅنڈ اسکرین کی طرح ہے جو 3 مختلف طریقوں سے استعمال ہوتا ہے جبکہ موٹرولا ریزر ایک چھوٹا فلپ فون ہے جو کھل کر لمبے اور تنگ ڈسپلے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

فولڈایبل فونز چھوٹی باڈی میں بڑی اسکرین فراہم کرتے ہیں، سال 2019 میں یہ فون مہنگے تھے اور موٹرولا ریزر کی قیمت ڈیڑھ ہزار ڈالرز رکھی گئی تھی جبکہ گلیکسی فولڈ 2 ہزار ڈالرز اور میٹ ایکس 2400 ڈالرز میں پیش کیا گیا تھا، اس کے علاوہ ان فونز میں خراشوں اور نقصان کا خطرہ بھی زیادہ دباﺅ سے بڑھتا ہے۔

یہ رپورٹس پہلے ہی سامنے آچی ہیں کہ گلیکسی فولڈ اور میٹ ایکس کے اپ ڈیٹ ورژن 2020 میں متعارف ہونے والے ہیں جبکہ شیاﺅمی اور ٹی سی ایل کی جانب سے بھی تجرباتی فولڈایبل ڈیزائن پر کام ہورہا ہے۔

فوٹوگرافی مزید بہتر ہوگی
فوٹوگرافی مزید بہتر ہوگی

 

فون میں کیمرے کا معیار لوگوں کو کسی فون پر خریدنے کے لیے تیار کرنے کی 3 بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، دیگر وجوہات میں اسکرین اور بیٹری لائف اہم ہیں۔

2019 میں موبائل فوٹوگرافی میں زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی یعنی ٹیلی فوٹو معیار اور ایڈوانسڈ امیج پراسیسنگ وغیرہ، مثال کے طور پر ٹیلی فوٹو اور وائیڈ اینگل سنسرز اب فلیگ شپ فونز میں عام ہوگئے ہیں، ہواوے پی 30 پرو اپنے پیری اسکوپ لینس کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا جس میں آپٹیکل اور ڈیجیٹل زوم کا حیرت انگیز امتزاج کیا گیا ہے۔

فون کمپنیوں کی جانب سے اب ایسے سنسرز اور پراسیسنگ سسٹم استعمال ہورہے ہیں جو پہلے صرف ڈی ایس ایل آر کیمروں میں ہی موجود ہوتے تھے، ان میں گوگل پکسل 4 کا ایسٹرو فوٹوگرافی موڈ قابل ذکر ہے جو تاروں بھری رات میں بہترین تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم سال 2020 میں نئے فون پراسیسر 200 میگا پکسل کیمروں کو سپورٹ کرنے کے قابل ہوسکیں گے جبکہ ٹیلی فوٹو اور الٹرا وائیڈ اینگل فوٹوگرافی میں بھی بہتری آئے گی جبکہ فونز میں 5 ایکس آپٹیکل زوم، سلوموشن اور ہائی ریزولوشن ویڈیو کے فیچرز بھی مزید بہتر ہوں گے۔

120 ہرٹز اسکرینز اب عام لوگوں کو بھی پہنچ سکیں گی
120 ہرٹز اسکرینز اب عام لوگوں کو بھی پہنچ سکیں گی

 

فلیگ شپ فونز کے ڈسپلے زیادہ بہتر ہوتے ہیں مگر وہ زیادہ تیز یعنی 120 ہرٹز ریفریش ریٹ والے بھی ہوں گے اور گلیکسی ایس 11 یا 20 (جو بھی اس کا نام رکھا جائے گا) اس میں یہ فیچر دیئے جانے کا امکان ہے۔

اسمارٹ فون میں عام طورپر ریفریش ریٹ 60 ہرٹز ہوتا ہے جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ڈسپلے پر فی سیکنڈ کتنی تعداد میں تصاویر اپ ڈیٹ ہوتی ہیں تو 60 ہرٹز کو 60 ریفریشز کے مساوی سمجھ سکتے ہیں جبکہ 120 ہرٹز فی سیکنڈ 120 ریفریشز کے برابر ہوگا۔

تیز ریفریش ریٹ گرافکس کو زیادہ ہموار بنائے گا جو کہ تیز رفتار اور گرافک کے لحاظ سے بھاری گیمز کے لیے اہم ہے جبکہ فور کے ویڈیو کے گرافکس بھی بہتر ہوں گے۔

فاسٹ چارجنگ مزید تیز ہوگی
فاسٹ چارجنگ مزید تیز ہوگی

 

تیز ریفریش ریٹ سے اے آر گرافکس کے حوالے سے تفصیلات یا ردعمل بھی بہتر ہوگا جو اس وقت گیمز میں اکثر استعمال ہونے والے فیچرز ہیں، اس وقت 90 ہرٹز یا 120 ہرٹز اسکرین والے فون بہت کم ہیں تاہم ان میں ون پلس 7 ٹی اور گوگل پکسل 4 شامل ہیں جو کہ آپشنل ہیں کیونکہ ریفریش ریٹ سے بیٹری پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آپ کا فون اس وقت ہی اچھا ہوتا ہے جب تک بیٹری کام کررہی ہے کیونکہ چارج ختم ہونے پر آپ کو اسے چارج پر لگا کر چھوڑنا پڑے گا، تاہم بڑی بیٹری زیادہ چارج کا ایک حل ہے جبکہ فاسٹ چارجنگ دوسرا حل ہے۔

مثال کے طور پر گلیکسی نوٹ 10 پلس میں 25 واٹ کا چارجر دیا گیا جو صفر پر پہنچ جانے والی بیٹری کو ایک گھنٹے میں بھردیتا ہے جبکہ یہ فون 45 واٹ چارجر کے ساتھ بھی کام کرتا ہے جو بیٹری کو اس سے بھی 50 فیصد کم وقت میں چارج کرسکتا ہے۔

اسی طرح ایپل نے بھی 2019 میں آئی فون 11 پرو اور پرو میکس میں 18 واٹ چارجر دیئے ہیں۔

تو یہ بالکل واضح ہے کہ 2020 میں چارجنگ اور بیٹری کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دی جائے گی، تیز ترین چارجر اب فونز کا حصہ بن جائیں گے جبکہ ابھی چینی موبائل کمپنیوں کی جانب سے ایسا کیا بھی جارہا ہے۔

فلیگ شپ فونز مزید مہنگے ہوجائیں گے
فلیگ شپ فونز مزید مہنگے ہوجائیں گے

 

موبائل فون کی قیمتوں میں گزشتہ چند سال میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ نئے کیمرا فیچرز اور بڑی اسکرینوں کی وجہ سے ڈیوائسز مہنگی ہوئی ہیں۔

فائیو جی، فولڈ ایبل ڈیزائن اور زیادہ کیمروں والے فونز، بیٹری اور پراسیسنگ میں بہتری وغیرہ کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ قیمتیں کم ہونے کی بجائے اوپر ہی جائیں گی جبکہ کم از کم فلیگ شپ فونز تو مزید مہنگے ہوں گے۔