ہواوئے کا پلان بی سامنے آ گیا

ہواوئے ٹیکنالوجیز (جو کہ چین میں سب سے بڑی اسمارٹ فون بیچنے والی کمپنی ہے) کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کے لیے اپنا ذاتی آپریٹنگ سسٹم بنا لیا ہے۔ کمپنی نے اپنے خود کے آپریٹنگ سسٹم پر بہت پہلے سے کام شروع کر دیا تھا۔ چونکہ کمپنی اپنے تمام آلات میں ایسا آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہی تھی جو امریکہ کی کمپنی گوگل کی ملکیت تھا اور کمپنی اندر ہی اندر اس بات کو ذہن میں رکھے ہوئے تھی کہ کبھی بھی امریکہ سے معملات میں تناو کے باعث ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہواوئے کے اعلٰی افسر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پلان بی موجود ہے جس کے تحت اگر ہم موجودہ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے کے قابل نہ رہے تو ہم اپنا بنایا ہوا آپریٹنگ سسٹم اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ میں پیش کر دیں گے۔

دوسری طرف ہم آپکو پھر سے بتاتے چلے کہ امریکہ نے ہواوئے پر الزام لگایا تھا کہ چینی حکومت اس کمپنی نے ذریعے سے امریکہ کے راز چوری کرتی ہے تاہم انھوں نے ان الزامات کا کوئی ثبعت فراہم نہیں کیا تھا۔

جب سے ہواوئے پر الزامات اور پابندیاں شروع ہوئی ہیں تب سے ہواوئے نے کسی بھی مزید منفی نتجیہ کی صورت میں اپنے تمام پلان تیار کر لیے ہوئے ہیں۔

ہواوئے

 

یہاں سب سے اہم بات یہ کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندوں کے باعث ہواوئے کو اینا نقصان نہیں ہوگا جتنا ہواوئے سے قطع تعلقی کرنے والی کمپنیوں کو ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت دنیا میں قریب ۱ بلین ڈوائسسز ہواوئے کی استعمال ہو رہی ہیں اور اتنی ڈوائسسز سے سروسز کا خاتمہ یقیناْ گوگل کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوگا۔