موبائل ریچارج سے متعلق پی ٹی اے کی وضاحت

پاکستان ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی نے پری پیڈ بیلنس کے ریچارج پر لاگو نرخوں پر ٹیکسوں کی کٹوتی کے حوالے سے وضاحت جاری کردی۔

پاکستان ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ موبائل فون آپریٹرز (سی ایم اوز) ریچارج پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اپریل 2019 سے ٹیکس کی بحالی کے بعد صرف ودہولڈنگ ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس/ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا جارہا کہ 100 روپے کے ریچارج پر 76 روپے وصول ہورہے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے 100 روپے کے ریچارج پر صارف کو ود ہولڈنگ ٹیکس 12.5فیصد یعنی11.11روپے کی کٹوتی کے بعد 88.889 روپے کا بیلنس موصول ہوتا ہے۔

یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ جی ایس ٹی19.5 فیصدکا اطلاق فی کال، ایس ایم ایس اور ڈیٹا کے استعمال کی بنیاد پر ہوتا ہے، جب صارف اپنا 88.889 روپے کا بیلنس استعمال کرتا ہے تب اس پر کل14.505 روپے جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے۔

ود ہولڈنگ ٹیکس کے علاوہ جی ایس ٹی کی کٹوتی کے بارے میں صحیح طور پر آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے موبائل فون صارفین کو بعض اوقات یہ تاثر ملتا ہے کہ موبائل فون آپریٹرز قابل اطلاق ٹیکسوں سے زیادہ قیمت وصول کر رہے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی اے نے کال سیٹ اپ چارجز پر فی کال 0.15روپے کی حد مقرر کردی ہے۔

پی ٹی اے قابل اطلاق ٹیکسوں کے حوالے سے شائع شدہ نرخوں سے زیادہ قیمت کی وصولی پر قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔