سورج کی ابلتی سطح کی تاریخی تصویر

تصویر میں ابلتے ہوئے پلازما کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ روشن حصوں میں پلازما گرم ہو کر سورج سے اوپر اڑتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب گہری رنگت کے نقوش میں پلازما قدرے ٹھنڈا ہوکر نیچے جارہا ہے، گہرے نقوش کے اندر جو روشن حصے ہیں وہ سورج کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان کو ظاہر کررہے ہیں۔

یہ تصاویر امریکی شہر ہوائی کی ہیلیکالا پہاڑی پر نصب ایک دوربین نے لی ہیں۔ دس سال کی مسلسل محنت اور منصوبہ بندی کے بعد یہاں 4 میٹر قطر کے آئینے والی ایک طاقتور شمسی دوربین نصب کی گئی ہے۔ نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کےتعاون سے بنائی گئی اس دوربین کا نام ’ڈینیئل کے انووی ٹیلی اسکوپ‘ ہے ۔ اس کا آئینہ خاص طور پر خمیدہ ہے جو اسے دنیا کی سب سے جدید شمسی دوربین بناتا ہے۔

اپنی جدت کی بنا پر یہ دوربین سورج کی سطح پر ایسے مقام کی بھی واضح تصویر لے سکتی ہے جو صرف 20 سے 30 کلومیٹرتک بھی وسیع ہو اور اس ضمن میں یہ اولین تصاویر ہیں۔ تصویر اور ویڈیو میں سورج کی سطح پر گرم دہکتے ہوئے پلازمہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصاویر اور ویڈیو کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ بہت صاف دکھائی دے رہی ہیں۔

اب تصویرمیں نظر آنے والا ایک خانہ 700 میل لمبا یعنی ریاسٹ ٹیکساس جتنا ہے جبکہ نیچے دی گئی ویڈیو میں سورج پر گزرنے والے دس منٹ کا ماجرا دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر ویڈیو پر نظر آنے والے مناظر کے پیمانے کو سمجھنا ہے تو جانیے کہ اس پر جو رقبہ نظر آرہا ہے وہ زمینی قطر یعنی 12,742 سے بھی ڈیڑھ گنا زائد ہے۔

لیکن دوربین کا مقصد محض تفصیلی تصاویر کا حصول نہیں بلکہ سائنسداں اسے دیکھ کر سورج کی سطح پر بل کھاتے اور کم زیادہ ہوتے مقناطیسی میدان کے بارے میں بھی بہت کچھ جان سکیں گے۔ اب تک ہم سورج کے مقناطیسی میدان کے بارے سےبہت کم آگاہ ہیں۔ واضح رہے کہ شمسی مقناطیسی میدان ہماری زمین پر اثرانداز ہوکر ریڈیائی مواصلات، بجلی کے نظام اور دیگر امور میں خلل ڈالتا ہے۔

نیشنل سائنس فاؤنڈیشن میں قومی شمسی تحقیقی پروگرام سے وابستہ ماہرِ طبیعیات، ویلنٹِن پیلٹ کہتی ہیں کہ اس دوربین سے ہم سورج کی بیرونی پرتوں کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ سورج اور دیگر ستاروں کی ساخت کس طرح کی ہے۔

تاہم یہ ٹیلی اسکوپ اگلے 6 ماہ مزید مشاہدات میں مدد دے گی اور مزید حیرت انگیز انکشافات متوقع ہیں۔