سمارٹ ٹرین ٹریک

چین میں دنیا کا پہلا سمارٹ ریلوے ٹریک قائم کر دیا گیا ہے جس پر چلنے والی ٹرینوں اور سٹیشنز پر ایسی سہولیات ہیں کہ لوگ ہوائی جہاز کو چھوڑ کر اس ٹرین میں سفر کرنے کو ترجیح دیں۔ میل آن لائن کے مطابق اس ٹریک پر بغیر ڈرائیور ٹرینیں چلیں گی۔ ان ٹرینوں میں اور سٹیشنز پر فائیو جی انٹرنیٹ اور بغیر تار کے موبائل فون ری چارج کرنے کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ اس ٹریک پر چلنے والی خودکار ٹرینیں بھی ایسی خوبصورت اور ان کی سیٹیں ایسی کشادہ اور آرام دہ ہیں کہ ہوائی جہاز کی سہولتیں بھی اس کے سامنے ماند پڑ جائیں۔

یہ ٹریک دارالحکومت بیجنگ سے ژینگ جیاکو تک بچھایا گیا ہے۔ ان دونوں شہروں کے درمیان 174 کلومیٹر کا فاصلہ ہے کہ جو یہ بغیر ڈرائیور ٹرینیں صرف 47 منٹ میں طے کریں گی۔ ٹرینیں ایک شہر سے چلیں گی اور بغیر کوئی سٹاپ کیے دوسرے شہر پہنچیں گی۔ اس ٹریک اور سٹیشنز کی تعمیر پر 6 ارب پاﺅنڈ لاگت آئی ہے اور یہ 2022ء میں بیجنگ میں ہونے والے اولمپک مقابلوں کے لیے تیار کیاگیا ہے۔

سمارٹ ٹرین
سمارٹ ٹرین