امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور دیگر خلائی تحقیقاتی اداروں کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ طاقتور ریڈیائی لہریں یا فاسٹ ریڈیو برسٹ (ایف آر بی) بہت کم وقت تقریباً ملی سیکنڈز کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔

جب ایک دہائی قبل ان لہروں کے بارے میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا تھا تب سے یہ ایک معمہ بنی ہوئی ہیں کہ یہ پراسرار لہریں اصل میں کہاں سے آرہی ہیں۔

اب تک سائنسدانوں کو ہماری کہکشاں سے باہر سے آتی لہروں کے بارے میں پتہ چلا تھا تاہم رواں سال 28 اپریل کو ناسا سمیت دیگر ممالک کی رصدگاہوں کی دوربینوں نے پہلی بار ہماری ہی کہکشاں سے آتی واضح فاسٹ ریڈیو برسٹ ریڈیائی لہریں دیکھی تھیں۔

اس واقعے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ لہریں کہاں سے پیدا ہوکر آرہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان لہروں کا ذریعہ طاقتور مقناطیسی نیوٹرون ستارہ ایس جی آر (1935+2154) تھا۔ یہ نیوٹرون ستارے انتہائی طاقتور مقناطیسی طاقت کے حامل ہوتے ہیں اور ان پر اسرار ریڈیائی لہروں کے ذریعے کا پہلا شک ایسے ہی ستاروں پر کیا جاتا رہا ہے اور اب سائنسدانوں نے پہلی بار ان لہروں کا ایک مقناطیسی نیوٹرون ستارے سے نکلتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم میں شامل امریکی ماہرینِ فلکیات کرسٹوفر کے مطابق مقناطیسی ستارے نے ملی سیکنڈ میں اتنی توانائی خارج کی جتنا کہ ہمارے سورج کی ریڈیائی لہریں 30 سیکنڈ میں کرتی ہیں۔

کرسٹوفر کاکہنا ہے کہ ہماری کہکشاں کی ایف آر بی لہروں کی طاقت دیگر کہکشاؤں سے آنے والی لہروں کی طرح ہیں اور یہ ریڈیائی لہریں روزانہ تقریباً 10 ہزار کی تعداد میں آتی ہیں تاہم اس طرح کی طاقتور لہریں اس سے قبل 2007 میں ہی دیکھی گئی تھیں۔

 ناسا سمیت دیگر ممالک کی جدید ترین سیٹلائٹس اور دوربینیں ایف آربی لہروں کے ذریعے کی تصدیق کے لیے خلا میں مسلسل نظر رکھی ہوئے ہیں،

تحقیق میں شامل ایک اور کینیڈین محقق پال اسکولز کا کہنا ہے کہ ایف آر بی لہروں کا منظر انتہائی روشن تھا اور ہم نے اس سے قبل ایسا نہیں دیکھا، ہم مقناطیسی ستاروں سے متعلق دہائیوں سے پڑھتے چلے آرہے ہیں جب کہ ایف آر بی لہریں کائنات کا ایک غیر معمولی مظاہر ہے جس کا اصل ذریعہ ایک معمہ ہی رہا ہے تاہم اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لہروں اور مقناطیسی ستاروں میں ضرور کوئی تعلق ہے۔

ایف آربی لہروں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں اور ان لہروں کو کسی دوسری کہکشاں پر موجود خلائی مخلوق کے سگنلز سے بھی منسوب کیا جاتا رہا ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق چین میں 500 میٹر بڑی ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ایک مقناطیسی ستارے کی نگرانی کی جارہی ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف آربی لہروں کا مقناطیسی ستارے سے تعلق ان لہروں کے پر اسرار راز کو ظاہرکرسکتا ہے۔

ناسا کے مطابق کہ ایف آر بی لہروں اور مقناطیسی ستارے کے درمیان تعلق کا ثبوت اس وقت مزید پختہ ہوجائے گا جب ماہرین دیگر کسی کہکشاں سے ان لہروں کو مقناطیسی ستارے سے خارج ہوتے ہوئے دیکھ سکیں اور یہ ہماری کہکشاں سے قریب ہی کسی کہکشاں میں ہونا ممکن ہے اس لیے ناسا سمیت دیگر ممالک کی جدید ترین سیٹلائٹس اور دوربینیں خلا میں مسلسل نظر رکھی ہوئے ہیں۔

Share: