ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر آپ رات کو دیر تک جاگتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ آپ موٹے ہو جائیں گے۔ امریکہ کی پنسلوانیا یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ نیند کی خرابی انسان کی بھوک پر اثرانداز ہوتی ہے اور کھانے کے معمولات بدلنے سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرہ شخص زیادہ کھانے لگتا ہے۔

سائنسی جریدے پی ایل او ایس بیالوجی میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند اور موٹاپا، دونوں ہی ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ نیند کی خرابی سے انسان موٹا ہو سکتا ہے بلکہ موٹاپے کے نتیجے میں بھی نیند کا معمول بگڑ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے پیرلمان سکول آف میڈیسن اور رینو میں قائم یونیورسٹی آف نیواڈا میں یہ خوردبینی تحقیق ایک چھوٹے سے رینگنے والے کیڑے سی ایلی گانز پر کی گئی۔ ایک ملی میٹر سائز کا یہ کیڑا طب سے متعلق کئی سائنسی تحقیقات میں استعمال ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے ایک شریک مصنف اور نیورولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سلیپ انسٹی ٹیوٹ کے رکن ڈیوڈ رائزن کہتے ہیں کہ نیند جسم کا ایک ایسا عمل ہے جس دوران جسم اس وقت توانائی محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جب اس کی مستعدی کی سطح نیچے جا رہی ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ اس تحقیق کے نتائج براہ راست انسانوں پر اثرانداز نہیں ہوتے، لیکن سی ایلی گانز دودھ پلانے والا ایک ایسا جاندار ہے، جس پر کیے جانے والے تجربات غیر معمولی طور پر انسانوں پر منتبق ہوتے ہیں۔ دوسرے جانداروں کی طرح اس کا بھی ایک اعصابی نظام ہے اور اسے بھی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ انسان کا اعصابی نظام بہت پیچیدہ ہے اور اس کی جانچ پرکھ بہت مشکل ہے، جب کہ سی ایلی گانز کا اعصابی نظام بہت سادہ ہے اور اس میں صرف 302 نیوران ہوتے ہیں، جن میں سے ایک کے بارے میں سائنس دانوں کو پتا ہے کہ وہ نیند کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

انسانوں میں نیند کی شدید خرابی کا نتیجہ دو انداز میں نکلتا ہے، اول بھوک میں اضافہ اور دوسرا جسم میں پیدا ہونے والی انسولین کے عمل میں خرابی۔ انسولین جسم میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور اس میں خلل پڑھنے سے انسان ذیابیطس میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد روزانہ چھ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں، ان کا وزن بڑھنے اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب انسانوں، چوہوں، فروٹ فلائز اور سی ایلی گاننز میں بھوکا رہنے سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے اور عموماً کسی حد تک وہ اپنے معمول پر واپس آ جاتی ہے۔ تاہم، سائنس دان ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ خوراک اور نیند ایک دوسرے پر کیوں اثر ڈالتی ہے۔

اس تحقیق کے ایک اور شریک مصنف اور یونیورسٹی آف نیواڈا میں بیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر الیکزنیڈر وین ڈرلنڈن کہتے ہیں کہ اس تحقیق کے ذریعے ہم نہ صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ نیند ہم پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے اور نیند میں کمی کا بھوک اور ذیابیطس سے کیا تعلق ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ نیند کی کمی موٹاپے اور ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے یا موٹاپا نیند میں کمی کا سبب بنتا ہے۔

اپنے تجربات کے دوران سائنس دانوں نے سی ایلی گانز کے اس نیوران کو کام کرنے سے روک دیا جو نیند کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے بعد سی ایلی گانز کھا سکتا تھا، سانس لیے سکتا تھا، بچے پیدا کر سکتا تھا، لیکن سو نہیں سکتا تھا۔ نیند کے نیوران کو کام سے روکنے کے بعد سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ اس کے جسم میں توانائی کی سطح گر گئی ہے۔
پروفیسر رائزن کہتے ہیں کہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نیند جسم میں توانائی کو محفوظ کرتی ہے، اس کا توانائی کے ضائع ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے اسباب دوسرے ہوتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے دوران پروفیسر وین ڈرلنڈن نے ایلی گانز کے اس جین کو کام کرنے سے روکا جو نیند کا سگنل بھیجتا ہے تو ایلی گانز میں چربی کی سطح بڑھ گئی، جو بالکل وہی صورت تھی جو انسانوں میں موٹاپے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ جب نیند میں خلل پڑتا ہے تو جسم میں چربی کی مقدار کنٹرول کرنے والے نیوران اپنا کام درست طور پر انجام نہیں دے پاتے جس سے چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جسم میں چربی کی مقدار اور نیند کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

Share: