زمین پر ہر جگہ کاشتکاری کے لائک مٹی موجود نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سائنس دان ایسی کھوج میں لگے ہیں کہ بغیر مٹی کے بھی سبزیاں اگا سکیں اور غذائی قلت پر قابو کر سکیں۔ یورپ میں خاص طور پر ہالینڈ میں ایک عرصے سے بغیر مٹی کے سبزیاں اگانے پر کام کیا جا رہا ہے۔

اس طرح سبزیاں اور جڑی بوٹیاں حاصل کرنے کا طریقہ ہائیڈرو پونیک کہلاتا ہے، جس میں‌ افزائش کے لیے مٹی کی ضرورت نہیں‌ ہوتی۔

اس طرز کے تجربات یورپ میں کیے جا رہے ہیں مگر پاکستان سے یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے روات کے قریب پہلے مقامی ہائیڈرو پونیک پلانٹ پر مٹی کے بغیر سبزیاں اگانے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔

اس طریقے سے ٹماٹر، کھیرے، بھنڈی، لوکی اور دیگر عام سبزیاں اگائی جاسکیں گی اور اس میں‌ زمین یا مٹی کے بجائے ناریل کے بورے، فوم اور پانی میں موجود ضروری اجزا سے افزائش اور نشوونما میں مدد لی جائے گی۔ پاکستان میں یہ زرعی پلانٹ ہالینڈ ہی کی مدد سے لگایا گیا ہے۔

Share: