ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اپنا نیا میٹ 40اسمارٹ فون متعارف کروادیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایپل کے نئے آئی فون 12 سے بہتر پروسیسر ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پروسیسر آئی فون میں استعمال کی گئی چِپ کی طرح ’فائیو نینومیٹر‘ تیکنیک پر ہی بنایا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اُن کے پروسیسر میں اربوں ٹرانزسٹر نصب ہیں جو ایپل کے اے 14پروسیسر سے 30 فیصد زیادہ ہیں۔

ہواوے کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان خصوصیات کے باعث ان کا نیا میٹ 40اسمارٹ فون آئی فون 12سے ’زیادہ طاقتور‘ ہے۔

ہواوے میٹ 40اسمارٹ فون کی نمایاں خصوصیات:

ہواوے میٹ 40کا سب سے سستا ماڈل 1049امریکی ڈالر کا ہے۔ اس میں 6.5 انچ کی او ایل ای ڈی اسکرین ہے۔ اس کے تین مہنگے ماڈلز کی قیمتیں 2,708 امریکی ڈالر تک جاتی ہے جبکہ ان کی 6.8 انچ کی اسکرین ہے۔

ہر فون میں 90ہرٹز کا ریفرش ریٹ ہے، جس کا مطلب ہے کہ فون کی اسکرین پر ہر سیکنڈ میں 90 فریم چل سکتے ہیں۔ یہ تعداد ایپل کے نئے آئی فون 12 اور سام سنگ کی ایس 20 سیریز سے کہیں زیادہ ہے۔

مسٹر یو کہتے ہیں کہ اس تکنیک سے اسکرین بہتر کارکردگی کرتی ہے اور فون کی بیٹری بھی طویل دورانیے تک چلتی ہے۔

اس سمارٹ فون کے ماڈلز کو کیمروں کی مدد سے تقسیم کیا جا سکتا ہے.

سب سے سستے ماڈل میں سیلفی لینے کے لیے صرف ایک کیمرہ ہے اور 3کیمرے پیچھے ہیں (وائڈ اینگل، الٹرا وائڈ اینگل اور ٹیلی فوٹو)۔

میٹ 40پرو میں فیس ان لاک کے لیے ’تھری ڈی سینسر‘ ہے اور اس کے کیمرے پہلے ماڈل سے بہتر ہیں۔

میٹ 40پرو پلس میں پیچھے چوتھے کیمرے کا مقصد ’سپر زوم‘ ہے اور پانچویں کیمرے سے کم فوکس کے ساتھ اچھی تصاویر لی جاسکتی ہیں۔

میٹ 40پورشے ڈیزائن آر ایس میں ’تھرما میٹر‘ ہے جس سے مقامی درجہ حرارت دیکھا جا سکتا ہے۔

فی الحال چین سے باہر صرف پرو ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے اور اس کی قیمت 1,297 امریکی ڈالر ہے۔

ہواوے کے نئے سمارٹ فون میں ایک جدید فیچر متعارف کرایا گیا ہے جس کی مدد سے فون کی اسکرین اس وقت آن ہو جاتی ہے جب اسے معلوم ہوجاتا ہے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس سے بیٹری کے مسائل کم ہو جائیں گے۔

ہواوے کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اِن چپس کی کمی ہے جو میٹ 40میں استعمال کی گئی ہیں کیونکہ یہ چِپ امریکا سے برآمد کی جارہی تھی لیکن امریکا نے رواں سال ستمبر سے چین پر تجارتی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر کمپنی کے پاس کیرن 9000نامی یہ پروسیسرز ختم ہوجائیں تو ایک عرصے کے بعد مزید میٹ 40اسمارٹ فون نہیں بناسکیں گے۔

پوری دنیا میں اس وقت صرف دو کمپنیوں کے پاس فائیو نینومیٹر کی چِپ بنانے کی صلاحیت ہے۔ ان میں تائیوان کی ٹی ایس ایم سی اور جنوبی کوریا کی سام سنگ شامل ہیں۔

Share: