ماھرین کے مطابق 4000 سال پرانا شہد کھایا جا سکتا ہے۔ اس کے مزیدار ذائقہ کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اچھی طرح سے برتن مین بند کی ہوئی شہد کبھی خراب یا ختم نہیں ہوتی ہے۔

اب تک کا سب سے پرانا شہد جارجیا میں پایا گیا تھا جو 5000 ہزار سال پرانا تھا۔ اس کے علاوہ مصر کے مشہور اہراموں کی کہدائی کرتے ہوئے آثار قدیمہ کے ماھرین کو ایک قدیم مقبرے میں شہد کے برتن ملے ہیں جو تقریبا 3000 سال پرانے ہیں، جو دنیا کے قدیم ترین نمونے میں سے ایک ہے جو ابھی بھی بالکل کھانے کےلائق ہے۔

ماھرین کے مطابق اس کے خراب نا ہونے کا سب سے اہم اس میں پانی بہت کم ہوتا ہے اور نمی کم ہونے کی وجہ سے بیکٹریا اور مائکرواورگنیزم زندہ رہ نہیں سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیکٹریاز کو شہد کو خراب کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔

اور اس کے علاوہ شہد کی پی ایچھ لیول 3 سے ساڑے چار کے درمیان ہوتی ہے جس وجہ سے بھی شہد کے اندر آنے والی ہرچیز ختم ہوجاتی ہے۔

درحقیقت شہد دنیا کا واحد کھانا ہے جو کافی وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی اصلی خصوصیت پہ قائم رہتا ہے۔ تاہم یہ وقت کے ساتھ ساتھ موٹا اور کرسٹل کی شکل لے لیتا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا ہے تو برتن کے ڈھکن ہٹاکے اس برتن کو پانے کے ایک دوسرے برتن میں رکھیں اور ہلکی آنچ پر گرم کریں یہاں تک کہ شہد اپنی اصل مستقل مزاجی پر لوٹ آئے۔ اگر آپ کا شہد پلاسٹک کے کنٹینر میں ہے تو پہلے اسے کسی اور کنٹینر میں ڈالیں۔

اپنی برتن پر گہری نگاہ رکھیں اور ضرورت کے مطابق آگ کو اوپر نیچے کرتے رہیں۔ اگر پانی زیادہ گرم ہوگیا اور ابلنا شروع ہوگیا تو شہد کے اندر بہت سارے فائدہ مند انزائیمس ختم ہوجائیں گے۔

اچھی شہد کو دیکھنے کےلئے ایک چائے کا چمچ شہد لیں اور پانی بھرے گلاس میں ڈالیں۔ جعلی یا ملاوٹ شدہ شہد پانی میں گھل جائے گا جب کہ خالص شہد جس کی کثافت زیادہ ہوتی ہے وہ گلاس کے نچلے حصے میں جاکے بیٹھ جائے گا۔

Share: