منگل کی صبح سویرے، بائیکا کو ایک ایسی حیرت انگیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس میں ہیکرز نے ڈیٹا بیس میں گھس کر اس کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کمپنی کے مطابق اس کا سسٹم متاثر نہیں ہوا کیونکہ حملہ جلد ہی پکڑا گیا تھا اور کمپنی کے پاس ڈیٹا بیس کا بیک اپ موجود تھا۔

بائیکا کے سی ای او منیب ماہر نے کہا کہ ان کا سسٹم ہیک ہوا، یہ بلکل معمول کے مطابق کاروباری دن تھا جب کمپنی کو ہیکرز کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے ان کے ڈیٹا بیس کا صفایا کر دیا مگر خوش قسمتی سے ان کو اس حملہ کا بررق علم ہوگیا اور انھوں نے ذیادہ نقصان سے پہلے اپنے سسٹمز کو محفوظ بنا لیا۔

بائیکا مینجمنٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہیکرز سرور پر موجود کمپیوٹیشنل ڈیٹا سے کرپٹو بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بائیکا مینجمنٹ کے مطابق ، ہیکر شاید گھبریا ہوا تھا تبھی اس نے پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا، حالانکہ اس کا اصل ارادہ ڈیٹا کو کاپی کرنا اور اسے بیچنا یا کمپنی سے تاوان کی رقم نکالنا ہو سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے، بائیکا کے پاس ڈیٹا کا بیک اپ تھا جسے انھون نے فوراً سسٹم میں شامل کر کے سسٹم کو بحال کر دیا۔

منگل کی رات کافی دیر بعد بائیکا کی سروسز بحال ہوئی۔

یہ طریقہ کار “میانو” حملے کی طرح ہی ہے جو درجنوں غیر محفوظ ڈیٹا بیس کو نشانہ بناتا ہے جو عوامی ویب پر بے ترتیب طور پر سامنے آتے ہیں۔ ایک بار نشانہ بننے کے بعد “میانو” ان ڈیٹا بیس میں موجود ڈیٹا کو مکمل طور پر، بغیر کسی وضاحت کے، اور کچھ کو تاوان لینے کے بدلے تباہ کردیتا ہے۔

Share: