دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی وبالِ جان بنی ہوئی ہے جس سے فضا، خشکی اور سمندر یکساں طور پر تباہ ہورہے ہیں لیکن اب ایک کمپنی نے بیکٹیریائی خامروں کو تبدیل کرکے اس سے پلاسٹک کو اس کے سادہ اجزا میں توڑنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کی روداد کچھ اس طرح ہے کہ فرانسیسی کمپنی کارباؤس نے بیکٹیریا کے اینزائم (خامرے) کو خاص طریقے سے تبدیل کیا ہے بعد ازاں اسے چند گھنٹے کے لیے پلاسٹک کی بوتلوں پر چھوڑا گیا تو اس عرصے میں پلاسٹک اپنے انہی سادہ اجزا میں تلف ہوگیا جسے دوبارہ آسانی سے نئی اور صاف و شفاف بوتلوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔

پلاسٹک کی روایتی بازیافتگی (ری سائیکلنگ) کا عمل ’حرارتی میکانکی‘ یا تھرمومکینکل ہوتا ہے لیکن اس سے بننے والی اشیا بہت اچھے معیار کی نہیں ہوتیں۔ اس خامرے کو تبدیل کرکے پی ای ٹی ہائیڈرولیز اینزائم کا نام دیا گیا ہے جو صرف 10 گھنٹے میں 90 فیصد پی ای ٹی پلاسٹک سے بنی اشیا کو تلف کرسکتا ہے۔ پہلے بھی اس بیکٹیریا پر خاصا کام ہوا تھا لیکن بعد ازاں نظرانداز کردیا گیا۔

دوسری جانب کارباؤس سے تعلق رکھنے والے چیف سائنس آفیسر ایلین مارٹی کہتے ہیں کہ نیا خامرہ بہت ہی کم خرچ ہے۔ ابتدائی تجربات کے بعد 2021ء میں اس کے صنعتی اور تجارتی پہلوؤں پر کام شروع کیا جائے گا اور اس کے بعد اگلے چند برس میں اسے صنعتی عمل کے تحت لایا جائے گا۔

Share: