کراچی کے دو انجینیئرز اویس حسین قریشی اور انس نیاز کی سٹارٹ اپ کمپنی ’وسکوز ڈاٹ کو‘ نے پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور ڈاکٹرز کے پاس حفاظتی کٹس کی کمی کے پیشِ نظر تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے این نائنٹی ماسک سے ملتے جلتے ماسک تیار کیے ہیں۔

بائیو ڈی گریڈیبل پلاسٹک سے تیار کردہ یہ ماسک بار بار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اس ماسک کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا ڈیجیٹل ڈیزائن ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جسے ڈاؤن لوڈ کرکے کوئی بھی شخص اس ماسک کو خود تیار کر سکتا ہے۔

اویس اور انس کے مطابق اس ماسک کا فائدہ کووڈ۔ 19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹرز کو ہو گا، جن کا پاس حفاظتی کٹس کی کمی ہے۔

کئی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو حفاظتی شیلڈ کی کمی کا بھی سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود بھی کووڈ۔19 کے مریض بن کر اپنے ہی ہسپتالوں کے آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔

اس لیے انہوں نے ایسے ڈاکٹرز کے لیے حفاظتی شیلڈ بھی تیار کی ہے۔

اویس اور انس نے پرائمری ہیلتھ کیئر کے سامان کے علاوہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے کووڈ۔19 مریضوں کے لیے ایمبو بیگ وینٹیلیٹر بھی تیار کیا ہے جو مینویل طریقے سے سانس دینے میں کام آتا ہے لیکن انہوں نے اسے مکمل طور پر آٹومیٹک بنایا ہے۔

اس وینٹیلیٹر میں موجود سینسرز مریض کی حالت کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے سانس لینے میں مدد کرتے ہیں۔

اویس اور انس پرعزم ہیں کہ وہ پاکستان کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور مریضوں کو اپنا طبی سامان مفت تقسیم کریں گے اور جو بھی اس کام میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہے وہ ان سے رابطہ کرسکتا ہے۔

Share: