جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر یہ بات بہت زور پکڑ چکی ہے کہ 5جی ٹیکنالوجی کرونا وائرس کے پھیلاو کا سب سے بڑا سبب ہے اور اس کی فریکونسی اتنی ذیادہ ہے کہ پرندے بھی اس سے متاثر ہو کر مر رہے ہیں۔ اسی بات کو بنیاد بناتے ہوئے برطانیہ میں کچھ مقامات پر 5جی کے ٹاروز پر حملہ بھی کیا گیا ہے۔ آج ہم آپکو اس کے بارے میں حقیقت سے آگاہ کریں گے۔

اس نظریہ کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں ہے کہ 5 جی نیٹ ورک کوویڈ 19 کا سبب بنتا ہے یا اس کے پھیلاؤ میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگ یا ایک طبقہ کسی خاص مقصد کے لیے اس کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔

برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) سے وابستہ ڈاکٹر نے 5 جی کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق خبروں کی حقیقت کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ہے۔

ڈاکٹر بائرڈا کا کہنا ہے کہ 5 جی کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلاؤ ناممکن ہے کیونکہ وائرس ریڈیو ویوز کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہو سکتے۔ این ایچ ایس سے وابستہ ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس جسم کے کچھ حصوں کے ذریعے ہی جسم میں داخل ہوتا ہے نہ کہ ریڈیو ویوز کے ذریعے۔

ڈاکٹر بائرڈا نے کہا کہ کورونا کسی کو چھونے یا ہاتھوں پہ وائرس کے لگنے اور منہ یا آنکھوں کے ذریعے ہی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

این ایچ ایس کے ڈاکٹر نے سماجی دوری اختیار کرنے اور قرنطینہ میں رہنے کو کورونا وائرس سے بچاؤ کا حل بتایا اور اس امر پر زور دیا کہ ہاتھ 20 سیکنڈ تک صابن اور گرم پانی سے دھوئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والی ویڈیوز کی وجہ سے اس موضوع پر بات کرنا ضروری سمجھا۔ ڈاکٹر بائرڈا کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے کہ 5 جی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھروں میں موجود میائیکرو ویو اوون سے نکلنے والی شعاعیں 5 جی سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں لیکن وہ بھی قوت مدافعت کو کمزور نہیں کرتیں۔

Share: