عالمی ادارہ صحت، طبی ماہرین اور سائنسدانوں نے کروانا سے بچاؤ کے لیے آئسولیشن اور 20 سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی سختی سے تاکید کی ہے۔

اگر بات کی جائے آئسولیشن کی تو اس کی جو سنجیدہ وجہ سامنے آئی ہے وہ یہ کہ کورونا وائرس ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے ہم اس کے پھیلاو کو کم صرف اس صورت میں کر سکتے ہیں جب ہم مناسب سماجی فاصلہ اختیار کریں اور ایک دوسرے سے میل جول ختم کر دیں۔

جب کہ ہاتھ دھونے اتنی تلقین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ ہاتھوں سے اس وائرس کا صفایا ہو سکے اور وہ ہاتھوں کے ذریعے پیٹ میں نہ جا سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق وائرس سے بچاؤ کے لیے صرف ہاتھ دھونا کافی نہیں ہے بلکہ 20 سیکنڈ تک لازمی صابن سے ہاتھ دھونا ہے۔

ایسے میں متعدد افراد تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں کہ آخر کورونا سے بچاؤ کے لیے 20 سیکنڈز تک ہی ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہیں؟

کرونا وائرس پر ہر جگہ تحقیقات ہو رہی ہیں اور ان میں سب سے زبردست ایک ایسی سمری بھی ہے جو امریکی جونز ہاپکنز یونیورسٹی میں ہوِئی ہے۔ اس سمری میں 20 سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔

سمری میں بیان کیا گیا کہ اگرچہ وائرس جاندار نہیں ہے، یہ ایک پروٹین مولیکیول ہے جسے مارا نہیں جاسکتا لیکن یہ اپنے وقت پر ختم ہوتا ہے، اس کا انسانی جسم کے علاوہ دیگر سطحوں سے ختم ہونا درجہ حرارت، نمی اور وقت پر منحصر ہے۔

طبی ماہرین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کروانا وائرس بہت نازک ہے، اس کی حفاظت کرنے والی واحد چیز چربی کی ایک بیرونی سطح (لیئر) ہوتی ہے اور صابن کا جھاگ چربی کو پگھلا کر ختم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ صابن سے 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

اس لیے صابن کو ہاتھوں میں اتنا رگڑنا چاہیے کہ ہاتھوں میں اس کا جھاگ بنے اور وہ پروٹین مولیکیول سے بننے والی چربی کو تحلیل کر دے۔

ایک اچھے صابن میں موجود بلیچنگ کیمیکلز 65 فیصد تک پروٹین مولوکیول کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، خاص طور پر یہ جھاگ ہاتھوں کے اوپر جمنے والی چربی کی تہہ تیزی سے ختم کرتا ہے۔ لہذا صابن خریدتے وقت اس کی کوالٹی کو بھی مدنظر رکھنا چائیے۔

اس کے علاوہ ہاتھوں کو دھونے کے لیے 25 ڈگری سیلسیس تک گرم پانی کا استعمال کریں کیونکہ گرم پانی کا استعمال بھی چربی کی تہہ کو پگھلانے کا ایک مؤثر عمل ہے۔

Share: