تقریباً سار دنیا ہی اینڈرائیڈ فون کے وائرس اور خطرات سے پریشان ہے۔ دوسری طرف گوگل بھی اس مسلئے سے چھٹکارہ پانے کے لیے سنجیدہ ہو گیا ہے۔ بہت ساری رپوٹس کے مطابق اینڈرائیڈ پلے سٹور پر وائرس زدہ ایپس موجود ہیں جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ پلے سٹور کو مسلسل وائرس سے بچانے کے لیے سکین کرتا رہتا ہے۔

مگر اب صورتحال خراب ہونے کے بعد گوگل نے ایک نیا پروگرام متعارف کروایا ہے جسے اینڈرائیڈ بگ بائونٹی کا نام دیا گیا ہے۔ دو سال قبل گوگل نے بہترین تحقیقات، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور انجینئرز کو میلویئر تلاش کرنے پر 30,000 $ – 50,000 $ دینے کا اعلان کیا تھا تاکہ اینڈرائیڈ فون کو محفوظ بنایا جا سکے۔

نتیجے کے طور پر، گوگل کسی پیشہ ور ماہر کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ مگر اب گوگل نے 2,00,000 $ کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے اور یہ انعام ہر اس اینڈرائیڈ کے صارف کے لیے ہوگا جو اینڈرائیڈ میں کسی بھی خامی کو تلاش کرتا ہے یا کسی وائرس کی نشاندہی کرتا ہے۔ پلے سٹور میں ‘جوڈی میلویئر‘ کا پھیلاؤ بھی بائونٹی کی رقم میں اضافی کا باعث ہے کیونکہ گوگل کی بہت سی ڈوائسسز اس وقت اس وائرس سے متاثر ہیں۔

اگر آپکو جوڈی میلویئر کے بارے نہیں پتا تو ہم آپکو اتنا بتاتے چلیں کہ اس میلویئر کے پلے سٹور میں آنے کے دوسرے دن ہی گوگل نے اس کی نشاندہی پر 2،00،000 کا انعام مقرر کیا تھا۔ اور اب تک 36.5 ملین اینڈرائیڈ فون اس میلویئر سے متاثر ہو چکے ہیں۔

اس میلویئر کے آپکا فون غیر محفوظ اور ناکارہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ میلویئر ایک کورین کمپنی کینی وینی “Kiniwini” نے بنایا ہے۔

چیک پوائنٹ “check point” نامی ایک سکیورٹی کمپنی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ یہ خطرناک وائرس پلے سٹور میں موجود 41 ایپس میں پایا گیا ہے جو مختلف اشتہارات پر خودکار طریقہ سے کلک کرتا رہتا ہے اور صارف کا قیمتی ڈیٹا بھی محفوظ نہیں رہتا۔ اس طریقہ سے یہ میلویئر اپنے بنانے والے کو آمدنی فراہم کرتا ہے اور اب اس وقت تک یہ میلویئر 18.5 ملین دفعہ ڈاون لوڈ ہو چکا ہے۔

 

Share: