سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب خلا میں بھی بیج لگا کر پھل اور سبزیاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔

اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ کیا انسان خلا میں جائیگا اور وہاں شہر بسائے گا۔ یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ کیا ہمارے بچے بھی دوسرے خلائی سیاروں تک سفر کرسکیں گے؟

تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں ایک اہم چیلنج کو سر کرنا پڑیگا اور وہ یہ ہے کہ کرہ ارض سے زیادہ عرصے دور رہ کر یہ لوگ کیا کھائیں پئیں گے۔ مریخ تک کا ایک سفر مہینوں میں طے ہوگا اور اگر ہم کہکشاں کی گہرائی میں گئے تو اس سے زیادہ عرصہ صرف ہوگا۔ ان سب صورتوں میں خلا بازوں او رمسافروں کیلئے خوراک ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگی۔ اگرچہ ایک آپشن یہ ہے کہ کھانے کی بڑی مقدار ساتھ لیجائی جائے جو مہینوں چلتی رہے لیکن اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ خلا میں خوراک پیدا کرنے پر غور کررہے ہیں تاہم یہ اتنا آسان کام نہیں۔ کرہ ارض کے مقابلے میں خلا میں ویکیوم ہے اوروہاں کی صورتحال انتہائی سخت ہے۔ خلا میں بیجوں کو اگنے کیلئے بالائے بنقشی شعاعیں اور کا سمک تابکاری ،کم پریشر اور انتہائی کم کشش ثقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

آئی-او-ایس 11 کو بھی مسائل کا سامنا

آپ یقین کریں یا نہ کریں خلا میں جو سب سے پہلے چیز گئی وہ یہی بیج تھے۔1946ءمیں ناسا نے جو وی ٹو راکٹ بھیجا تھا اس میں بھٹے کے بیج تھے۔ صرف یہ دیکھنے کیلئے انہیں بھیجا گیا تھا کہ تابکاری کے ان بیجوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اُس وقت سے اب تک سائنسدانوں نے بیجوں پر خلائی ماحول کے اثرات پر بڑے تجربات کئے ہیں۔

Share: