کھڑے ہو کرپانی پینے کو اخلاقی طور پر اچھا خیال نہیں کیا جاتا لیکن اس کے انسانی صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کے جسم کا تقریباََ دو تھائی حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ انسان کی زندگی کے لیے بہت ضروری قرار دیا گیا ہے۔

جسم کو تروتازہ رکھنے اور جسم کی موجودہ نمی کو برقرار رکھنے کیلیَے زیادہ سے زیادہ پانی کا استمال ضروری ہے۔ پانی کے مناسب استمال سے جسم کے اندر موجود فالتو مادہ بھی خارج ہو جاتا ہےبہت سارے ماہرین کی راےَ ہے کہ انسان کے جسم کو لمبے عرصے کیلیَے صحت مند اور جوان رکھنے کیلیَے پانی کا زیادہ استمال کرنا چاہیَے کم سے کم ایک دن میں اندازََ 8 گلاس پانی کا استمال کرنا ضروری ہے۔

یوں تو پانی کا استمال بہت اچھا ہے لیکن کھڑے ہو کر پانی کا استمال نہایت مضر ہے ہربل ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پانی کھڑے ہو کر نہیں پینا چاہیَے اس سے جسم کو نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔

یہاں چند نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے جیسے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے جسم کی نسوں میں کچھاوْ آجاتا ہے اور جسم کی ہڈیوں کے جوڑوں کو نقصان پہچتا ہے کیوں کہ جب کھڑے ہو کر پانی پیا جاتا ہے تو پینے کی رفتار میں تیزی آجاتی ہے جو جوڑوں کے درد کا باعث بنتی ہے۔

کھڑے ہو کر پانی پینے سے آکسیجن میں کمی واقع ہوتی ہے جو سانس لینے میں دشواری کا باعث بنتی ہے اور دل، گردوں اور پھپھڑوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ جسم میں طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس لیے آرام کے ساتھ بیٹھ کر اور آہیستہ آہیستہ پانی پینا چایئے تاکہ ہم سکون محسوس کر سکیں اور ہماری صحت پر برے اثرات مرتب نہ ہوں اس کے علاوہ اسلام میں بھی بیٹھ کر پانی پینے کی تلقین کی گئی ہے۔

Share: