ابوظہبی کی ایک ماحولیاتی فرم نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2018 کے آغاز میں انٹارکٹیکا سے برف کا پہاڑ فجیرہ لائیں گے جسے پینے کے پانی کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

نیشنل ایڈوائزر بیورو لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹرعبداللہ محمد سلیمان  الشاہی کا کہنا ہے کہ “ایک اندازے کے مطابق ایک بڑا برف کا پہاڑ تقریبا 20 ارب اوسط پانی کے گیلن فراہم کرے گا جو ایک ارب لوگوں کے لیے پانچ سال تک کافی ہوگا”۔  عبداللہ محمد سلیمان نے مزید کہا کہ ان کی فرم نے  برف کا پہاڑ کھینچ لانے کے لیے راستہ اور باقی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ 

  • ایک بڑا برف کا پہاڑ تقریبا 20 ارب اوسط پانی کے گیلن فراہم کرے گا جو ایک ارب لوگوں کے لیے پانچ سال تک کافی ہوگا۔
  • کپمنی 2018 کے آغاز میں پہلا برف کا پہاڑ لائے گی۔
  • برف کا پہاڑ سمندر کے رستے فجیرہ کے ساحل پر لایا جائے گا جہاں اسے پینے کے پانی میں بدلا جائے گا۔
  • ابھی تک کے منصوبہ کے مطابق برف کے پہاڑ کو لانے میں ایک سال تک کا عرصہ درکار ہوگا۔
  • برف کے پہاڑ کو لانے کا منصوبہ متحدہ عرب امارات کے خالی حصہ کو سبزہ میں بدلنے کے منصوبہ کا ایک اہم حصہ ہے۔

“ہماری فرضی ویڈیو کے مطابق ہمیں ایک  پہاڑ لانے کے لیے ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا. ہم نے تکنیکی اور مالی منصوبہ تیار کر لیا ہے. کھینچنا بہترین طریقہ ہے. ہم 2018 کے آغاز میں منصوبہ شروع کریں گے۔ “ایسا کہنا تھا الشاہی کا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “ہم بنیادی طور پر پانی کے لئے یہ چاہتے ہیں. یہ سیاحت اور موسم کے لئے بھی اچھا ہو سکتا ہے.”

 

برف کا پہاڑ جَلدی نہیں پگھلتا کیوں کہ اس کا اسی فیصد حصہ سمندر کے اندر ہوتا ہے۔ بحیرہ عرب میں متحدہ عرب امارات ساحل کے ساتھ ساتھ تیرتے ہوے برف کے پہاڑملک کے مشرقی سرے میں سیاحوں کے لیے ایک اہم نئی چھٹیاں منانے کی جگہ ہو سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس منصوبہ کے لیے 3000 کلو میٹر دور سے پہاڑ لانے پڑیں گے۔

انٹارکٹیکا کے بارے میں کہا یہ جاتا ہے کہ زمین کے خالص پانی کا ستر فیصد حصہ انٹارکٹیکا  میں سمایا ہوا ہے۔ اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ خاص طور پر گہرے پانیوں میں اس طرح کی کارروائیوائی ایک بہت بڑا چیلنج ہو سکتی ہے۔ ایک مرتبہ ساحل پر لانے کے بعد پانی کے پروسیسنگ آپریشن کو انتہائی تیز کیا جائے گا جس میں بڑے ٹکروں کو کاٹ کر چھوٹے ٹکروں میں بدلا جاے گا جیس سے پینے کا صاف پانی حاصل ہوگا جو بڑے بڑے ٹینکوں میں جمع کر لیا جائے گا۔

الشاہی کا کہنا ہے“یہ دنیا کا سب سے شفاف پینے کا پانی ہوگا”.

ایک سوال آنے پر ابھی الشاہی نے آپریٹنگ اخراجات کی وضاحت کرنے اور اخراجات بیان کرنے سے انکار کر دیا۔

 

Share: