پروفیسر یانِس ایروپولوس کی سربراہی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ میں اچھوتا نظام ایجاد کیا ہے جو انسانی پیشاب کے ذریعے نہ صرف بجلی بناتا ہے بلکہ نکاسی کے گندے پانی میں موجود خطرناک جرثوموں کو ہلاک بھی کرتا ہے؛ یعنی یہ صحیح معنوں میں ’’ایک پنتھ دو کاج‘‘ والی ایجاد ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسان کو یہ بات صدیوں سے معلوم ہے کہ پیشاب میں تیزاب کے علاوہ مختلف نامیاتی مرکبات، خاص طور پر یوریا کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ کیمیائی عمل کے ذریعے ان مادّوں سے بجلی بنانے اور جراثیم ہلاک کرنے کے امکانات بھی برسوں سے موجود تھے لیکن ایسا کوئی قابلِ عمل طریقہ وضع نہیں کیا جا سکا تھا جس کی مدد سے یہ سارے کام تیز رفتاری اور سہولت کے ساتھ کم خرچ پر انجام دئے جا سکتے۔

اس ٹیم کے ماہرین نے دو سال پہلے بین الاقوامی تنظیم ’’آکسفیم‘‘ کے تعاون سے ایسا ہی ایک تجرباتی فیول سیل ایجاد کرلیا تھا جس میں موجود جراثیم، یوریا کے سالمات توڑتے ہیں اور معمولی مقدار میں بجلی بھی بناتے ہیں۔ البتہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یہ بیکٹیریا اسی کارروائی کے دوران ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بھی بناتے ہیں جس سے انہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن یہ نکاسی کے گندے پانی میں موجود دوسرے جرثوموں کو ہلاک کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔

Share: