اس جدید دور میں روبوٹ ٹیکنالوجی کس رفتار سے ترقی کر رہی ہے اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب روبوٹ پولیس اہلکار بھی جلد ہی سڑکوں پر اپنے فرائض انجام دینے لگیں گے اور آج تجرباتی طور پر انہوں نے کام کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ چین میں ان دنوں گولڈ ویک کے نام سے قومی ترقی کا ہفتہ منایا جارہا ہے اور یہ روبوٹ بھی اسی بڑے موقع پر عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔

دیگر تفصیلات کے مطابق یہ روبوٹ پولیس اہلکار ایسے بازوﺅں سے مزین ہیں جو بجلی کا جھٹکا دے سکتے ہیں اور یہ عام پولیس اہلکاروں کے ہتھیاروں کی طرح کام کر سکتے ہیں جبکہ سب سے عجیب و غریب اور دلچسپ ٹیکنالوجی اس میں یہ استعمال کی گئی ہے کہ انہیں چہروں کی شناخت کا ہنر بھی سکھادیا گیا ہے۔ اور تو اور اس روبوٹ میں ایک اسپیکر بھی نصب ہے جس سے بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ قطار میں کھڑے ہوں اور ایک جگہ بڑے اجتماع سے گریز کریں۔ کبھی کبھار یہ روبوٹ لوگوں کو عام سیکیورٹی پر بھی عمل کی ہدایات کرتا ہے۔

پولیس روبوٹآپ نے یہ ساری باتیں معلوم کرلیں تو شاید آپ کو گمان ہورہا ہوگا کہ یہ کسی حقیقت کی تفصیل نہیں بلکہ کسی فکشن بلاک بسٹر فلم کی کہانی ہے مگر ایسا نہیں۔ تجرباتی طور پر ہی سہی مگر کچھ پولیس روبوٹ نے بیجنگ کی سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ کے کنٹرول کا کام سنبھال لیا ہے۔ ان روبوٹس کو تیار کرنے والوں کا کہنا ہے ان کو خطرات سونگھنے کی بھی صلاحیت دی گئی ہے اور کسی بھی بھاگتے شخص کو دبوچنے کیلئے یہ اپنے لمبے بازو اس تک بڑھا سکتا ہے کہ جس کا جھٹکا لازمی طور پر اس شخص کو محسوس ہوگا اور وہ زمین پر اس طرح گرے گا بلکل ایسے جیسے بے ہوش کرنے والی گولی لوگوں کو زمین پر گرا دیتی ہے۔

2017 کے ٹاپ اسمارٹ فون

میڈیا نے اس روبوٹ کو دیکھ کر اسکی بہت تعریف کی ہے تاہم یہ بات اب تک معلوم نہیں ہوسکی کہ ایسے روبوٹ سب سے پہلے کہاں اور کب تک باقاعدہ طور پر ڈیوٹی پر مامور کئے جائیں گے۔

Share: