نامور امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے ایک عجیب و غریب ڈیزائن والے طیارے کو اڑانے کا تجربہ کر لیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا آپ اس پر پرواز کرنا پسند کرسکیں گے؟

یہ عجیب سوال اس لئے سامنے آیا ہے کہ اس طیارے کی حیثیت پروٹوٹائپ طیارے کی ہے مطلب اس کے پارٹس کھولے بھی جاسکتے ہیں اور لگائے بھی جاسکتے ہیں۔ خلائی تحقیقی ادارے کا کہناہے کہ انتہائی جدید ترین ٹیکنالوجی سے مڑنے والے بازوﺅں والا یہ طیارہ بنایا گیا ہے اور ناسا کے سائنسدان یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اگر اس قسم کے طیارے کمرشل پروازوں کیلئے استعمال ہونے لگیں توہر پرواز کا ایندھن کے اخراجات میں کافی بچت ہوگی۔ اب تک یہ ہوتا رہا ہے کہ طیاروں کے ایسے بازو جو کافی لمبے ہونے کے باوجود انتہائی سختی سے باڈی سے جڑے ہوتے ہیں زیادہ ایندھن خرچ کرتے ہیں اور پرواز جتنی لمبی ہو ایندھن کا خرچ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے طیاروں میں سب سانک اور سپر سانک دونوں قسم کے طیاروں دونوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گوگل کا ہیکرز کے لئے انعام کا اعلان

ناسا کا نیا طیارہ ، طیارہ سازی کے میدان میں انقلاب آفریں کہے جانے کے قابل ہے۔ ناسا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسکا یہ تجربہ کامیاب رہا ہے اوراسی کامیابی کی بناءپروہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ مستقبل میں بننے والے برق رفتار یا کم تیز رفتار طیاروں کے ڈیزائننگ میں بڑی تبدیلی رونما ہوجائیگی.

Share: