برطانوی کیمیا دانوں کی ایک ٹیم نے ’’گریفین‘‘ نامی مادّہ استعمال کرتے ہوئے ایسی چھلنی ایجاد کر لی ہے جس کے سوراخ صرف ایک نینومیٹر جتنے چوڑے ہیں جب کہ وہ سمندر کے شدید نمکین پانی تک کو بڑی تیزی سے صاف کر کے میٹھا اور پینے کے قابل بنا سکتی ہے۔

’’گریفین‘‘ دراصل کاربن کی ایک بہروپی شکل ہے جس میں کاربن کے ایٹم کسی بڑی سالماتی چادر (مالیکیولر شیٹ) کی شکل میں ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اپنی دریافت سے لے کر اب تک گریفین کو متعدد تحقیقی اور اطلاقی مقاصد میں استعمال کیا جا چکا ہے جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ امکانات کی دنیا وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔

اسی تسلسل میں یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سائنسدانوں نے پانی کی صفائی میں گریفین آکسائیڈ استعمال کرتے ہوئے نینومیٹر پیمانے کے سوراخوں والی چھلنیاں بنانے کا فیصلہ کیا تاہم قباحت یہ تھی کہ جب گریفین آکسائیڈ کو پانی میں رکھا جاتا ہے تو اس کی سالماتی چادر پھول جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے شگاف بھی زیادہ چوڑے ہوجاتے ہیں جن میں سے نمک کے سالمات بہ آسانی گزرتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی یہ پانی کو نمک سے پاک کرنے میں بالکل بے کار ہوجاتی ہے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ماہرین نے گریفین پر ’’ایپوکسی ریزن‘‘ کہلانے والے ایک خاص مادّے کی بیرونی پرت چڑھادی جس نے اسے پانی پڑنے پر پھولنے سے باز رکھا۔ تجربات کے دوران اس ’’نینو چھلنی‘‘ نے نمکین پانی کو بڑی تیزی سے اور مکمل طور پر صاف کر کے پینے کے قابل بنایا۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ پانی اور نمک کے سالمات (مالیکیولز) کی جسامت میں بہت معمولی سا فرق ہوتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے اس ’’گریفین نینو چھلنی‘‘ میں سوراخوں کی چوڑائی بطورِ خاص اتنی رکھی گئی کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ اس نینو چھلنی کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر اس کے ایک طرف نمکین پانی کا دباؤ بڑھایا جائے تو دوسری طرف سے صاف پانی خارج ہونے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے جب کہ اس پورے عمل کے دوران نینو چھلنی کے سوراخ بھی نمک کے سالمات سے بند نہیں ہوتے۔

یوں تو سمندر کے نمکین پانی کو صاف اور پینے کے قابل بنانے کے لیے ’’ریورس اوسموسس‘‘ اور اسی قسم کے دوسرے طریقے برسوں سے موجود ہیں لیکن وہ سب کے سب اوّل تو بہت مہنگے ہیں اور دوسرے وہ بہت پیچیدہ بھی ہیں۔ لیکن گریفین پر مشتمل نینو چھلنی ان سب سے کہیں بہتر، سادہ اور کم خرچ بھی ہے جو خاص طور پر غریب ممالک میں آلودہ پانی کو صاف کرنے میں بہت مدد کر سکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اسے قابلِ عمل واٹر فلٹر میں بدلنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر نینوٹیکنالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

Share: