امریکن یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک تحقیق کے مطابق جوانی میں بھرپور نیند لینے والے افراد بڑھاپے میں صحت مند رہتے ہیں جبکہ نیند کے مسائل کا شکار افراد بڑھاپے میں مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانی کے زمانے میں بہت سے افراد مطلوبہ وقت سے کم سوتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں تاہم ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کا فوری حل تلاش کریں تاکہ بڑھاپے میں عوارض سے محفوظ رہ سکیں۔

اس تحقیق کی روشنی میں دیکھا جائے تو محسوس کیا جا سکتا ہے نوجوان نسل کو بڑھاپے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نئی نسل کمپیوٹر ، ٹی وی اور موبائل کے چکر میں ساری ساری رات جاگ کر گزارتی ہے یہی وجہ ہے کہ صبح سویرے اٹھنا بھی ان پر گراں گزرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بچوں کی صحت ، تعلیم ، سونے جاگنے کے معمولات اور ان کی اخلاقیات پر بہت برے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھیں۔

اس لئے نہیں کہ انہیں اپنے بچوں پر اعتماد نہیں بلکہ انہیں بری صحبت اور بری عادات سے بچانے اور ان کی صحت اور اچھی تعلیم و تربیت کے لئے ان کی نگرانی کرنا ضروری ہے۔ رات گئے تک جاگنے والے بچوں کے نیند کے اوقات مقرر کرنا بچوں اور والدین دونوں کے لئے ضروری ہے تاکہ بڑھاپے میں وہ مختلف قسم کے عوارض سے محفوظ رہ سکیں۔

Share: