ہم سب لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور کہیں نہ کہیں ہمیں ای میل یا کسی بھی جگہ پاس ورڈ کا اندراج کرنا پڑتا ہے۔ اکثر لوگ جب اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ یا ای میل کا پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں تو بعض اوقات پرانے پاس ورڈ کے آگے ہی ایک دو ہندسوں 1 2 3 وغیرہ کا اضافہ کر دیتے ہیں۔

ایک مشہور سائبر سکیورٹی ماہر نے یہ کام کرنے والوں کو خبردار کیا ہے۔ مشہور سائبر سکیورٹی ماہر بل بر(Bill Burr) ہیں جن کا کہنا ہے کہ ”چاہئے آپ کا پاس ورڈ کتنا ہی مضبوط ہو، جب آپ اسے تبدیل کرتے ہیں اور اس کے آگے محض ایک ہندسے کا اضافہ کر دیتے ہیں تو ایسا کرنے سے یہ ہیکرز کے رحم و کرم پر آ جاتا ہے کیونکہ ایسے پاس ورڈ کو چوری کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ ایسے پاس ورڈز کو ٹرانسفارمیشنز کہتے ہیں جو ہیکر اپنے کوڈ میں تیار کرتے ہیں۔

بل بر کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ اپنے پاس ورڈ میں نمبر، علامتیں اور چھوٹے بڑے حروف استعمال کرتے ہیں لیکن اس میں الفاظ کی تعداد کم رکھتے ہیں تو بھی اسے توڑنا یا چوری کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ لمبے فقرے پر مشتمل پاس ورڈ سب سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ہیکرز کے لیےاُس پاس ورڈ کو توڑنا سب سے مشکل ہوتا ہے جو طویل ہو۔ طویل کا مطلب ہے کہ اس میں کم از کم چار الفاظ ہوں۔ اس سے قبل میں خود بھی سمجھتا تھا کہ جس پاس ورڈ میں علامتیں، نمبر اور حرف ملا کر استعمال کیے جائیں وہ مضبوط ترین ہو تا ہے لیکن اب مجھے اپنی اس سوچ پر پچھتاوا ہے اور میں اس پر ایک کتاب بھی لکھ چکا ہوں۔

Share: