لیپ ٹاپ کون استعمال نہیں کرتا؟ یقیناً ہم سب لیپ ٹاپ اور لیپ ٹاپ بنانے والی مختلف کمپنیوں سے واقف ہیں۔ مگر ریزر وہ کمپنی ہے جو لیپ ٹاپ کی دنیا میں نت نئے اور چونکا دینے والے تجربات کے لیے جانی جاتی ہے، جس کی مثال گزشتہ سال پیش کیے جانے والا تین اسکرین پر مشتمل کانسیپٹ لیپ ٹاپ تھا۔

لاس ویگاس میں سی ای ایس ٹیکنالوجی نمائش کے دوران ریزر نے پراجیکٹ لنڈا کے نام سے ایک کانیسپٹ لیپ ٹاپ متعارف کرایا جس میں ایک اسمارٹ فون ہی درحقیقت لیپ ٹاپ کا کام کرے گا۔

مزید پڑھیں:  ڈیل کا گیمنگ کمپیوٹر

یقین نہیں آیا؟ جی ہاں کمپنی کے اپنے ریزر اسمارٹ فون کو لیپ ٹاپ میں ماﺅس کی جگہ نصب کرکے اس ڈیوائس کو 13.3 انچ ڈسپلے اور کی بورڈ سے لیس کردیا جاتا ہے جو کہ فون کو چارج بھی کرتا ہے۔ آپکو صرف اپنے فون کو ماوس پیڈ کی جگہ نصب کرنا ہے اور پھر پ فون کو ماوس پیڈ کی طرح استعمال بھی کر سکیں گے اور لیپ ٹاپ کے مزے بھی لے سکیں گے۔۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر فون لیپ ٹاپ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ نہیں فلحال مارکیٹ میں موجود فون اس قابل نہیں کہ لیپ ٹاپ میں جان ڈال سکیں مگر ریزر کو مزید ایسے فون بنانے کی ضرورت ہے جو بوقت ضرورت لیپ ٹاپ کا کام سرانجام دے سکیں۔۔۔۔۔ کمپنی کے مطابق مستقبل قریب میں اسمارٹ فونز ہی درحقیقت وائد ڈیوائس ہوگی جس کی آپ کو اپنے کاموں اور تفریح کے لیے ضرورت ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ پراجیکٹ لنڈا میں اس ڈیوائس کو بڑی اسکرین اور کی بورڈ فراہم کرکے اسے زیادہ کارآمد بنادیا گیا ہے۔ کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ اس لیپ ٹاپ میں ایسا ڈوک اسٹیشن نصب ہے جو ریزر فون کو لیپ ٹاپ بنانے کے لیے کافی ہے۔ جب فون کو ڈوک میں فکس کردیا جائے گا تو بس ایک بٹن کو دبا کر آپ اسے لیپ ٹاپ میں تبدیل کرسکیں گے اور یہ عمل بہت آسان اور مزیدار ہوگا۔

لیپ ٹاپ
تصویر بشکریہ ریزر

 

اس سے پہلے ایسا تجربہ ماضی میں بھی کیا جاچکا ہے تاہم اس وقت مکمل ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ ڈوک میں لگنے کے بعد اسمارٹ فون ٹریک پیڈ کی طرح کام کرے گا اور انگلی کی حرکت پر زبردست ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ اسی طرح وہ فون لیپ ٹاپ کی دوسری اسکرین کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا جبکہ وہ اسپیکر کا کام بھی کرے گا۔

سب سے ذبردست بات یہ کہ اس میں موجود یو ایس بی پورٹ سی فون کو چارج کرتی رہے گی جبکہ ہیڈفون جیک اور معمول کی یو ایس بی پورٹ بھی دی گئی ہے۔

چونکہ ریزر فون اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ہے تو لیپ ٹاپ بھی اینڈرائیڈ ایپس پر ہی چل سکے گا۔

Share: