دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائیٹ فیس بک نے اپنے قریبا 2 ارب صارفین سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ٹی وی چینلز اور یوٹیوب کو ٹف ٹائم دینے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ فیس بک انتظامیہ رواں برس جون سے 24 ایسے لائیو اور ویڈیو شوز نشر کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو نہ صرف ویڈیو ویب سائیٹ یوٹیوب بلکہ دنیا بھر کے ٹی وی چیننلز کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ فیس بک کن موضوعات پر کس طرح کے لائیو شوز نشر کرے گی، تاہم اس کے لیے فیس بک نے تیاری شرع کردی۔ فیس بک سے وابستہ افراد نے بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ فیس بک جون کے وسط سے کم سے کم 2 درجن ایسے لائیو اور ویڈیو شوز نشر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو 5 سے 30 منٹ دورانئیے کے ہوں گے۔ فیس بک سے وابستہ افراد کے مطابق یہ شوز اور ویڈیوز کم لاور درمیانی لاگت سے تیار کیے جائیں گے، یہ بعض ٹی وی شوز کی طرح مہنگے نہیں ہوں گے، کچھ شوز کافی لمبے، جب کہ کچھ انتہائی مختصر ہوں گے، ان کے موضوعات بھی الگ الگ ہوں گے۔ لائیو اور ویڈیوز کو نشر کرنے کا باقائدہ اعلان 17 جون کو فیس بک کے ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کیے جانے کا امکان ہے۔ فیس بک نے اس منصوبے کے لیے کالیج ہیومر کے شریک بانی رکی ون وین سمیت ٹی وی انڈسٹری کے کچھ افراد کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں، جنہوں نے لائیو اور ٹی وی شوز سے وابستہ افراد اور اداکاروں سے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔ ممکنہ طور پر فیس بک پر اسپورٹس اور میوزک سمیت مختلف قسم کے لائیو اور ویڈیو شوز نشر کیے جائیں گے، جن میں پرفارمنس کرنے والے زیادہ تر چہرے نوجوان اور شہرت یافتہ ہوں گے۔

سوشل ویب سائیٹس سے منسلک افراد کے مطابق فیس بک نے یہ منصوبہ بظاہر یوٹیوب اور سنیپ چیٹ جیسی ویب سائیٹس اور ٹی وی چینلز کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے تیار کیا۔ اس منصوبے سے جہاں فیس بک اپنے صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک ویب سائیٹ پر آن لائن رہنے مجبور کرے گا، وہیں وہ ان ویڈیوز اور شوز کے ذریعے اشتہارات کی مد میں اپنی آمدنی بھی دگنی کرے گا۔ اس منصوبے سے فیس بک صارفین کو یوٹیوب اور ٹی وی چینلز کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، کیوں کہ اس منصوبے میں صارفین کے لیے ایسے ویڈیوز اور شوز پیش کیے جائیں گے، جنہیں لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

Share: