اب فیس بک نے پروفائل تصویر کی سیکیورٹی کے لیے ایک حل نکل لیا ہے جس کے تحت آپ کی فیس بک پروفائل تصویر چوری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ فیس بک صارفین کی اکثریت اس بات کی شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ ان کی پروفائل تصویر سوشل میڈیا پر کئی جگہ غلط ناموں سے نقل ہو رہی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں جن کی تصاویر کئی جگہوں پر نقل کی جارہی ہے لیکن اب فیس بک نے صارفین کی پروفائل تصویر کی سیکیورٹی کے لیے ایک حل نکالا ہے۔

فیس بک انڈیا کی جانب سے نکالے گئے حل کے تحت بہت جلد صارفین کی پروفائل تصویر کے اطراف نیلا حاشیہ (بارڈر) کا اضافہ کیا جائے گا اور اس پر کئی شیلڈ بھی موجود ہوں گی جس سے تصویر کو ڈاؤن لوڈ، کاپی اور ٹیگ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس ضمن میں بھارت میں تحقیق بھی کی گئی اور صارفین اپنی پروفائل تصویر محفوظ بنانے کے لیے اس پر 6 پرتیں (لیئرز) لگا سکیں گے۔ پراجیکٹ مینیجر آراتی سامون کہتے ہیں کہ نئے ٹول سے بھارت کے لوگ اپنی تصاویر کنٹرول کر سکیں گے اور کوئی انہیں ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ تصویر پر ڈیزائن والی بارڈر اور پرتیں بھی لگائی جا سکیں گی جب کہ ہمارا تجربہ بتاتا ہےکہ بارڈر والی تصاویر زیادہ ڈاؤن لوڈ اور شیئر نہیں ہوتیں اور اس آزمائش کے بعد یہ سہولت بقیہ دنیا کے لیے بھی پیش کر دی جائے گی۔

فیس بک نے بھارتی اداروں کے ساتھ مل کر دو نئے ٹولز بنائے ہیں جو آپ کی پروفائل تصاویر کو محفوظ بنا سکیں گے۔ ان میں سے ایک ’پروفائل پکچر گارڈ‘ ہے جو فون ٹیپنگ سے ایکٹو ہو جاتا ہے اور آپشن فراہم کرتا ہے جب کہ یہ فیچر ڈاؤن لوڈنگ اور شیئرنگ کو ناممکن بناتا ہے، اسی طرح یہ تصویر کسی میسج میں بھی نہیں بھیجی جا سکتی اور یہ اینڈروئڈ آلات پر اسکرین شاٹ لینے کو بھی ناممکن بناتا ہے۔ دوسرے آپشن میں آپ تصاویر پر کئی طرح کی پرتیں یا لیئرز لگا سکتے ہیں ان میں بھارتی ٹیکسٹائل کے پرنٹ اور آرٹ وغیرہ کے نمونے ہیں اور لوگ اس طرح کی تصاویر کو عموماً شیئر نہیں کرتے جب کہ یہ فیچر ابھی بھارت میں آزمایا جا رہا ہے اور جلد بقیہ دنیا کے لیے پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے بھارت اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں اکثر خواتین اپنی تصاویر لگاتے ہوئے خوفزدہ ہوتی ہیں کہ کہیں ان کی تصویر کا غلط استعمال نہ ہو جائے۔

Share: