ویسے تو پانی میں تیرنے والے ڈرون یا دیگر آلات پہلے ہی مارکیٹ میں آچکے ہیں، تاہم اب امریکی کمپنی نے پہلا بائیونک وائرلیس فش ڈرون تیار کرلیا ہے۔ اس ڈرون کو ’بکی‘ کا نام دیا گیا ہے، جو وائرلیس سے رابطہ منقطع ہوجانے یا پھر کسی اور تکنیکی مسئلے کی وجہ سے خود ہی واپس اپنے بیس میں یعنی پانی سے باہر آجائے گا۔

دنیا کے پہلے بائیونک بکی ڈرون کا ڈیزائن بھی مچھلی کی طرح بنایا گیا ہے، جب کہ اس کا سائز بھی ڈولفن کے چھوٹے بچے جتنا ہے، اور یہ چلتے وقت مچھلی کی طرح متوازن سفر کرتا ہے۔ امریکی ریاست ڈیلوائر کے شہر ومنگٹن ڈی کی کمپنی روبوسی کی جانب سے تیار کردہ اس بائیونک بکی ڈرون کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کیمرہ بھی نصب ہے، جو پانی کے اندر بھی ریکارڈنگ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ ڈرون پانی میں 196 فٹ اندر تک جا سکتا ہے۔

اس فش ڈرون کو اپنے اسمارٹ موبائل فون یا دیگر ڈیوائسز سے منسلک کرکے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے، تاہم اگر کسی مسئلے کی وجہ سے سسٹم کام نہ کرے تو یہ ڈرون واپس پانی سے باہر آجاتا ہے۔ بائیونک ڈرون کیمرے کے ذریعے زیر آب تصاویر یا ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کے بعد اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس کا کیمرہ موبائل یا ڈیوائس سے منسلک ہوتا ہے۔ اس روبوٹ کو تیار کرنے والی کمپنی کے مطابق بکی کو مضبوط بنانے کے لیے اس کا سائز چھوٹا بنایا گیا، تاکہ اگر اسے کسی تحقیق کے لیے سمندر میں بھیجا جائے تو یہ بڑی مچھلیوں کے حملے سے محفوظ رہ سکے۔ اس فش ڈرون کی مدد سے سمندر یا پانی کے اندر ریکارڈنگ کرنے سمیت اسے تحقیق کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جب کہ مچھلی کے شکار میں بھی اس کی خدمات لی جاسکتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس ڈرون کو پانی میں چھوڑ کر کیمرے کی مدد سے مچھلیوں کا پتا لگا کر ان کا شکار بھی کیا جاسکتا ہے۔

Share: