ڈرون سے بھلا کون واقف نہیں کیونکہ اس کا استعمال نہ صرف محض کھیل کود میں ہو رہا ہے بلکہ اس سے بہت سے مفید اور کارگر کام بھی لیے جا رہے ہیں، جیسا کہ فضاء سے کسی بھی چیز کی نگرانی کرنا، امدادی کام کرنا، اشیاء پہچانا یا پھر بہترین ویڈیو بنانا اور ایریل ویو سے تصاویر اتارنا وغیرہ۔ مگر ہر جگہ ڈرون ہی واحد حل نہیں ہوتا۔

گم یا چوری شدہ فون کا سراغ کیسے لگایا جائے؟

غبارے ڈرون کی جگہ لینے کے لیے کچھ ایسا ہی نیا مگر دلچسپ تجربہ کیا ہے ٹیکساس کے سیکیورٹی محکمے نے، جنہوں نے سرحد کی نگرانی کیلئے ہیلیئم گیس سے تیار کردہ ایسے جدید غبارے استعمال کرنے کا تجربہ کیا ہے جن میں کیمرے بھی نصب ہیں۔ ان کیمروں کی وجہ سے غیرقانونی آمد ورفت کا سلسلہ روکا جاسکے گا اور نگرانی زیادہ موثر طور پر ہوسکے گی۔ مقامی حکام گھریلو ساخت کے ایسے چھوٹے ڈرون بھی سرحدوں کی نگرانی کیلئے استعمال کا تجربہ کررہے ہیں جو نسبتاً سستے ہوتے ہیں مگر چونکہ انکی بیٹری زیادہ دیر کارگر نہیں رہتی اورمحدود وزن کیساتھ یہ ڈرون اڑ سکتے ہیں اسلئے انکا استعمال زیادہ مفید ثابت نہیں ہورہا۔ ایسے غباروں کی آزمائش بھی ہو چکی ہے اور30 دن تک یہ تجربہ کیا جاتا رہا۔ اب ہیلیئم گیس کے غباروں میں کیمرے نصب کردیئے گئے ہیں۔ یہ غبارے ڈرون ایوی ایشن ہولڈنگ کارپوریشن نے تیار کئے ہیں جسکے ڈائریکٹر بارڈر پیٹرول کے سربرا ہ ڈیوڈ ایگولر ہیں۔

یہاں یہ بات واضح ہو کہ جس کمپنی نے اسے تیار کیا ہے وہ 3 سال سے خسارے میں جارہی ہے مگر امید ہے کہ غباروںکا تجربہ اسکے مالی مسائل کا بھی حل پیش کردیگا۔

Share: