عرقِ گلاب کے نام سے کون واقف نہیں مگت اس کا استعمال انسانی جلد کے لیے ایک گوہر نایاب ہے۔ جلدی امراض کے ڈاکٹر انہیں متعدد بیماریوں کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں. مثلاًعرقِ گلاب جلد کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ یہ جلد میں پانی کی صحیح مقدار قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ سے جلد ملائم اور چمک دار اور ہموار رہتی ہے ۔

دنیا 600 سال میں ختم ہو جائے گی

یہ جلد سے پانی کے ضرورت سے زیادہ اخراج کو روکتا ہے۔ سردیوں میں انسانی جلد بہت خشک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جلدی امراض مثلاً ایگزیما لا حق ہو سکتا ہے۔ عرقِ گلاب جلد کو اس بیماری سے محفوظ رکھتا ہے .چھائیوں سے نجات حاصل کرنے اور جلد کی رنگت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے عموماً بازاری کریمیں استعمال کی جاتی ہیں۔ مگر جلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر عرقِ گلاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ نیز انہیں ڈاکٹروں کا یہ مشورہ ہے کہ چہرے کی خشکی اور جھریوں سے بچنے کے لیے عرقِ گلاب ، گلیسرین ،اور لیموں کا رس ملا کر استعمال کیا جائے تو مطلوبہ نتائج بر آمد ہوں گے۔ 

Image result for rose water

وہ گھریلو خواتین جن کے ہاتھوں کی انگلیاں کپڑے اور برتن دھونے والے صابن اور سرف کے استعمال سے کھردری ہو کر پھٹ جاتی ہیں اور ان میں زخم بن جاتے ہیں ایسی خواتین گلیسرین اور عرقِ گلاب روزانہ تین چار مرتبہ استعمال کریں تو اس تکلیف سے بچا جا سکتا ہے ۔

کچھ مرد و خواتین کی ایڑیاں پھٹ جاتی ہیں اگر وہ عرقِ گلاب اور گلیسرین کا کلچر لگائیں تو ان کی یہ بیماری ختم ہو جائے گی۔ عرقِ گلاب زیتون اور شہد کے ساتھ مل کر جلد اور معدہ کی حفاظت کے بہت سے امور انجام دیتا ہے۔ خصوصاً صرف عرقِ گلاب پینے سے قبض دور ہو جاتا ہے۔اور یہ انتڑیوں کو جراثیم سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔

Image result for rose waterعرقِ گلاب جلدی امراض کے علاوہ انسان کےہر عضو کے لیے دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید طب نے عرقِ گلاب کو آنکھوں کا نور کہا ہے اور آج ماحولیاتی آلودگی کے زمانہ میں اس کا استعمال بہت ضروری قرار دیا ہے۔ عرقِ گلاب ایک خوشبو،دوا ،غذا اور مشروب ہے سخت گرمیوں میں دو چمچ شہد ایک گلاس پانی میں گھول کر اس میں چند قطرے عرقِ گلاب کے ملا لیے جائیں تو یہ ایک فرحت بخش مشروب بن جاتا ہےاس سے بدن کی گرمی دور ہوتی ہے اور بدن میں چستی اور طاقت پیدا ہوتی ہے.

یوں تو بازاروں میں بہت سے عرقِ گلاب دستیاب ہیں مگر خریدنے سے پہلے یہ تسلی ضرور کر لیں کہ کہیں آپ ناقص اور ملاوٹی عرقِ گلاب تو نہیں خرید رہے۔ خالص عرقِ گلاب اپنی خوشبو سے پہچان لیا جاتا ہے جب کہ ملاوٹی عرقِ گلاب کی خوشبو تلخ محسوس ہو گی اور وہ چکھنے پر بھی بد مزہ ہو گا ۔

Share: