آسٹریا کی عدالت نے فیس بک انتظامیہ کو دنیا بھر سے نفرت انگیز پوسٹس فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکم پر عمل نہ کیا گیا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے خلاف قانونی مقدموں پر آسٹرین قانون لاگو کیا جاسکتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق آسٹرین سیاست دان کی وکیل ماریا وِنڈہیگر نے کہا کہ عدالتی حکم فیس بک کے ان دعوؤں کو دھتکارے جانے کے مترادف ہے کہ کسی بھی عدالت کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے خلاف کارروائی کی سماعت صرف کیلی فورنیا اور آئرلینڈ میں ہوسکتی ہے، جہاں فیس بک کے ورلڈ اور یورپی ہیڈکوارٹرز موجود ہیں۔

ماریا وِنڈہیگر گرینز کی سیاستدان ایوا گلیوِسچنِگ کی نمائندگی کر رہی تھیِ، جنہوں نے ان کے جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے پوسٹ پر کیے گئے تبصروں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ آسٹریا کی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فیس بک کی درخواست پر سامنے آیا، جو ویب سائٹ انتظامیہ نے مقامی عدالت کے پوسٹس ہٹانے کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی۔ فیس بک کی جانب سے عدالتی فیصلے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے برطانیہ میں 8 جون کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل لاکھوں جعلی اکاؤنٹس ختم کردیئے۔ فیس بک نے جعلی اکاؤنٹس غلط خبروں کی تشہیر کے باعث بند کیے۔ فیس بک نے اپنی نیوز فیڈ میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے اپنی نیوز فیڈ کے لیے نیا ہدایت نامہ جاری کردیا۔ فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی غلط خبر، مضمون، تصویر کی تشہیر کی نشاندہی پر کام کر رہے ہیں۔

Share: