ویسے تو اب بہت ہی پرانے شیونگ برش دستیاب نہیں ہوں گے، مگر اب بھی کئی کمپنیاں ایسی ہیں جو کئی سال پرانی ہیں، اور وہ پرانے طریقے سے ہی برش تیار کرتی ہیں۔ شیونگ کے لیے مرد حضرات جو برش استعمال کرتے ہیں، وہ زیادہ تر جانوروں کے بالوں سے تیار ہوتے ہیں، جن میں سے بعض برش ایسے بھی ہیں، جو انفیکشن پھیلانے والے جانوروں کے بالوں سے تیار ہوتے ہیں۔ مگر عام آدمی کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ جو وہ برش خرید رہے ہیں، وہ کس جانور کے بالوں سے تیار ہیں۔ اس کا علم بعض اوقات برش فروخت کرنے والوں کو بھی نہیں ہوتا، تاہم کچھ کمپنیاں اپنے ڈبے پر برش سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہیں، مگر کئی کمپنیاں معلومات فراہم نہیں کرتیں۔

امریکی محکمہ صحت کے سائنس جرنل سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پروینشن کی جانب سے ایک تاریخی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو شیونگ برش 1920 اور 1930 کے درمیان تیار ہوئے اور جو 20 صدی کے آغاز میں بنے ان میں فرق پایا گیا۔ سروے کے نتائج سے پتہ چلا کہ جدید دور میں تیار ہونے والے برشوں میں بھی بیماریاں پھیلانے والے انفکیشن پائے گئے، تاہم ان میں پرانے برشز کے مقابلے بہت ہی کم انفکشنز موجود تھے، اور وہ قدرے محفوظ ہیں۔ سروے میں بتایا گیا کہ 1920 اور 1930 کے درمیان تیار ہونے والے برش یا اس دور میں بنی کمپنیوں کے برش استعمال نہ کیے جائیں، کیوں کہ ان میں ’اینتھریکس اسپورس‘نامی انفیکشن پایا گیا، جو 4 طرح کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ اینتھریکس نامی انفیکشن سے انسانی جلد متاثر ہونے سمیت سانس لینے کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، جب کہ یہ انفیکشن آنتوں اور رگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سروے کے نتائج سے پتہ چلا کہ 1920 اور1930 کے عشرے میں تیار کیے گئے شیونگ برش سے جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کے کئی فوجی ہلاک ہوئے، یا انہیں جسمانی بیماریاں لاحق ہوئیں۔

دنیا میں 80 سال پرانے بنے شیونگ برش تو نہیں ہوں گے، البتہ ایسی کمپنیاں اب بھی موجود ہوں گی، جو 80 سال پرانی ہوں گی، اور ممکنہ طور پر وہ پرانے طریقوں سے اور ایسے جانوروں کے بالوں سے برش تیار کرتی ہوں جن کے بالوں میں انفیکشن پایا جاتا ہو۔ ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ نئے سے نئے شیونگ برش کا استعمال کیا جائے، اور کوشش کی جائے کہ جانور کے بالوں سے تیار ہونے والے برش کے بجائے کریسٹل اور پلاسٹک آلات سے تیار ہونے والے بالوں کے حامل برش کو استعمال کیا جائے۔

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 20 صدی کے آغاز میں بھی دنیا بھر میں ایسے برش بنائے گئے، جن میں انفیکشن پائے گئے۔

Share: