شیشے کی بیکار بوتلوں کو بظاہر یہی مصرف نظر آتا ہے کہ انہیں خاص بھٹیوں میں  پگھلا کر دوبارہ ان سے خام شیشہ تیار کرلیا جائے لیکن اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریورسائیڈ ( یو سی آر) کے ماہرین نے ری سائیکل بوتلوں سے دیرپا بیٹری تیار کی ہے۔

لیتھیئم آئن بیٹریاں ہمارے اسمارٹ فون سے لے کر کاروں تک کو بجلی فراہم کررہی ہیں۔ روایتی طور پر ان میں لیتھیئم کیتھوڈ اور گریفائٹ اینوڈ استعمال ہوتا ہے لیکن اب بوتلوں کے شیشے سے حاصل شدہ سلیکن سے بھی بیٹری کے اینوڈ بنائے جاسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سلیکن گرینائٹ کے مقابلے میں 10 گنا توانائی محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس سے بنے اینوڈ بہت پائیدار ثابت نہیں ہوتے اور جلد ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سلیکن کو پہلے ہی شکستہ کردیا جائے۔

ونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریورسائیڈ کے ماہرین نے شیشے کی بوتلوں کو توڑ کر اس کا باریک سفوف بنایا اس کے بعد سلیکن ڈائی آکسائیڈ کو گرم میگنیشیئم کے ذریعے سلیکن کی نینو ساختوں میں تبدیل کیا گیا اور آخری مرحلے میں ان پر کاربن کی ایک پرت چڑھائی گئی جس سے وہ مزید مضبوط اور زیادہ بجلی جمع کرنے کے قابل ہوگئی۔

اس کے بعد ماہرین  نے اس سے ایک بٹن سیل بنایا اور اسے 400 سائیکل تک آزمایا۔ بوتلوں کے سلیکن اینوڈ والی بیٹری کی گنجائش 1420 ایم اے ایچ تک دیکھی گئی جب کہ عام بیٹری کی گنجائش 350 ایم اے ایچ تک ہوتی ہے۔

 

منصوبے کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہےکہ انہوں نے اس کچرے کا انتخاب کیا جو کچرے خانے کے میدانوں کو بھردیتا ہے اور اسے شیشہ اور اس کی بوتلیں کہا جاتا ہے، سلیکن کی بیٹریاں جلد جارچ ہوجاتی ہیں اور بٹن بیٹریوں کے مقابلے میں دیرپا اور اور پائیدار ثابت ہوسکتی ہے، بہت جلد یہ روایتی لیتھیئم آئن بیٹریوں کی جگہ لے لیں گی۔ ماہرین کے مطابق شیشے کی ایک بوتل سے سینکڑوں بٹن سیل بنائے جاسکتے ہیں اور اب وہ اپنی ایجاد کو پیٹنٹ کرارہے ہیں۔

Share: