دنیا بھر میں پلوں اورسڑکوں کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اور بڑے پلوں کا معمولی نقص وقت کے ساتھ ساتھ ایک بڑے حادثے کی وجہ بن سکتا ہے لیکن اب امریکی سائنسدانوں نے اس مسئلے کا بھی روبوٹک حل ڈھونڈ نکالا ہے۔

یونیورسٹی آف نیواڈا کے انجینئروں نے دنیا کا پہلا خودمختار روبوٹ بنایا ہے جو پلوں کا جائزہ لے سکتا ہے اوریہ روبوٹ ٹریفک روانی متاثر کیے بغیر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ جدید طریقوں میں پلوں اور سڑکوں کی نگرانی میں وہاں سوراخ کرکے اندر موجود مٹیریل، کنکریٹ اورفولادی ساخت کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے تاہم 1980 کے عشرے میں ایجاد ہونے والے ریڈار سے یہ کام آسان ہوگیا ہے۔ لیکن اب بھی لوگوں کے ذریعے پلوں کا سروے کرانا ایک مہنگا عمل ہوتا ہے اور اس کے لیے پلوں سے ٹریفک کی آمدورفت معطل کرناپڑتی ہے مگر اس روبوٹ سے یہ کام بہتر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ چار پہیوں والا یہ روبوٹ واٹر پروف ہے اور بیٹری سے چلتا ہے۔ اس میں برقی سینسر اور گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار بھی موجود ہے جو پل کے اندر شکستہ حصوں اور زنگ آلود اسٹیل اسٹرکچر کا جائزہ لے کرخطرے سے خبردار کرتا ہے۔

روبوٹ کا کمپیوٹر نظام ایک الگورتھم بھی رکھتا ہے جو پل کو مختلف کلر کوڈ میں دکھاتا ہے جس سے پل کے کمزور پہلو اور نقائص ظاہر ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نے اسے امریکا کے چار بڑے شہروں کے پلوں پر آزمایا جہاں اس نے اپنی تیزی اور افادیت میں انسانی ماہرین کو مات دیدی۔ اگرچہ یہ پلوں کا جائزہ لینے میں انسان کی طرح وقت صرف کرتا ہے لیکن ڈیٹا کو گھنٹوں کی بجائے منٹوں میں پروسیس کرتا ہے، اب یہ ٹیم اسے مزید تیز بنارہی ہے۔ تعمیراتی ماہرین نے اس روبوٹ کی کارکردگی کو سراہا ہے لیکن بعض نے مشورہ دیا کہ انسانی آنکھ اور سمجھ بوجھ اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اس روبوٹ کو انسانی سرویئر کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ پلوں کو مزید بہتر انداز میں دیکھا جاسکے۔

Share: