اردو کے مشہور محاورہ دور کے ڈھول سہانے کی حقیقی مثال ہم آپ کو دیتے ہیں کہ ایک سائنیسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے مجموعی وزن سے کہیں زیادہ سونا خلا میں بہت فاصلے پر موجود ہے۔

واٹس ایپ اب لینڈ لائن پر

اس رپوٹ کے مطابق زمین اور مدار پر نصب انتہائی حساس اور طاقتور قسم کے آلات اور دوربینوں کی مدد سے یہ پتہ چلا ہے کہ 2 آسمانی ستاروں کے تصادم کے نتیجے میں سونا بڑی مقدار میں ظاہر ہوا ہے۔ اس کی مقدار زمین کے مجموعی وزن سے بھی زیادہ معلوپ ہوتی ہے مگر افسوس یہ ہے کہ یہ سونا کرہ ارض سے 13 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔ واضح ہو کہ سائنسدانوں نے کرہ ارض پر تابکاری لہروں کا ٹھوس سراغ پانچویں بار لگایا ہے اور یہ پتہ چلایا ہے کہ اسٹیلر آتشیں گولے سے ہی یہ لہریں زمین تک پہنچتی ہیں اور انکے لنک مشہور بلیک ہولز تک جاتے ہیں۔

2017 کے ٹاپ اسمارٹ فون

اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیوٹرون کے حامل ستاروں کی ٹکر سے گاما شعاعوں کا فشار بھی ہوا ہے لیکن یہ محدود رہا ہے۔ کچھ سائنسدان یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ کرہ ارض سے بہت دور ہی سہی لیکن سونے کا یہ حیرت انگیز بڑا ذخیرہ ایک حقیقت ہے۔

یہاں یہ واضح ہو کہ دونوں ستاروں کا تصادم ہائیڈرا کانسٹالیشن کی حدود میں 13 کروڑ سال قبل پیش آیا تھا اور اتنے طویل فاصلے کی وجہ سے اس تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی روشنی اور شعاعیں اب جا کر اتیے عرصہ بعد زمین تک پہنچی ہیں۔ تحقیق کے مطابق سونے کے اتنے بڑے ذخیرے کے ساتھ اس تصادم کے نتیجے میں پلاٹینیم ، یورینیئم اور دیگر بڑی دھاتوں کی بڑی مقدار بھی وجود میں آئی ہے مگر ابھی زمین تک ان کی پہنچ نہیں ہوسکی ہے۔

Share: