امریکی خلائی تحقیق ادارے ناسا کے زیر استعمال دوربین ہبل نے انتہائی دوری پر واقع ایک ستارے کو تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے او ردوربین کے ذریعے جو تصاویر اتاری گئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ انتہائی زیادہ بڑے سائز کا ستارہ ایکارس کرہ ارض سے 9 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے اور سورج سے کہیں زیادہ روشن ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ اب تک اتنی زیادہ دوری پر کسی ستارے کا کوئی سراغ نہیں لگا تھا اور عام دوربینیں اس قابل نہیں ہوتیں کہ انکے ذریعے اتنے دور افتادہ ستاروں کو دیکھا جاسکے لیکن ہبل میں خاص قسم کا جو عدسہ لگا ہے وہ اس کی کارکردگی کو عام دوربینوں سے 2 ہزار گنا بڑھا دیتا ہے اور انسان ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ہبل کے ذریعے اتاری جانے والی تصاویر کو دیکھ کر کہاہے کہ ایکارس ، سورج سے لاکھوں گنا زیادہ چمکدار اور روشن ہے اور بے شمار رنگ برنگے ستاروں کے جھرمٹ میں رہتا ہے۔

ناسا نے اس حوالے سے جو تصویر جاری کی ہے اس میںآسمان پر لاتعداد چمکتے ستارے نظر آتے ہیں اور انہی کے درمیان ایکارس بھی اپنی پوری روشنی اور چمک کے ساتھ جگمگاتا نظر آرہا ہے۔ خلائی تحقیق کے اداروں اور ماہرین کا کہناہے کہ اس ستارے کو ڈھونڈ نکالنا خلائی تحقیقی کی تاریخی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ظاہری رنگت کے اعتبار سے ایکارس کی رنگت نیلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بوئنگ طیارہ بھی وائرس سے متاثر

ماہرین فلکیات اس بات پر متفق ہیں کہ اس سے قبل دنیا میں اس قسم کی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی گئی۔ نیچر ایسٹرونومی نامی جریدے کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اب تک ماہرین فلکیات اور سائنسدان حد سے زیادہ دوری پر صرف چند کہکشاﺅں کا تصور کرتے رہے تھے اور یہ کہکشاں اربوں چھوٹے بڑے ستاروں کی آماجگاہ ہے جو سپر نووس اور گاما شعاعیں بھی خارج کرتے ہیں۔ روشنی کا یہ فشار کسی زور دار شمسی جھماکے سے کم نہیں ہوتا۔ فنی لحاظ سے کہکشائیںخود بھی عدسے کا کام کرتی ہیں اور اپنے قریب اور آس پاس موجود ستاروں وغیرہ کو زیادہ نمایاں کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔

Share: