جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے مشہور الیکٹرانک کمپنی “سام سنگ” کے سربراہ کو رشوت ستانی کا الزام ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے. کمپنی کے ارب پتی سربراہ جے وائے لی پر الزام تھا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گیون ہائی سے مراعات کے حصول کے لیے ان کی ایک قریبی دوست کو رشوت دی تھی.

لی کا مقدمہ ایک بدعنوان اسکینڈل کا حصہ ہے جوکہ جنوبی کوریا کے سابق صدر پارک جیون-ہائی کے انخلاء کی وجہ بنا. 

ایک رپورٹ کے مطابق، سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے لی کو کمپنی کے اختتام کے خطرے اور رشوت لینے کے الزامات کی بنیاد پر سزا دی. پبلیکیشنز کے مطابق،کورٹ کا کہنا ہے کہ لی 6.38 $ ملین کی رشوت میں منسلک تھا جو کہ سابق صدر پارک کے دوست اور قیدی چو ئی-سون-سل کو دی گئی.

کورٹ کا مزید یہ کہنا تھا کہ لی 6.4 بلین کے غبن میں بھی شامل تھا-

لی جسکو فروری میں حراست میں لیا گیا تھا اس نے کورٹ میں خود پر لگا گئے الزامات کو ماننے سے انکار کر دیا. لی کے دفاعی وکیل وان-چول گیت، کم نے سینٹ کو یہ بیان دیا کہ قانونی پیشہ ور کے طور پر قانونی کاموں میں مداخلت اور حقا ئق کو تلاش کرنے کے معاملے میں کورٹ کی طرف سے عا ئد کیے گئے کسی بھی الزام کو میں نہیں مانتا اور اس معاملہ میں ہم فوری طور پر اپیل کریں گے.

لی پر جو رشوت کا الزام لگایا گیا تھا وہ 2015 میں دو سام سنگ گروپس اور اسکی ہولڈنگ کمپنیوں کے درمیان گورنمنٹ کنٹرولڈ ساؤتھ کور ئین پنشن فنڈ کو حاصل کرنے پر مبنی تھا. سام سنگ کے سی- اینڈ-ٹی کنسٹرکشن اور ٹریڈنگ کاروبار اور اسکے چائل انڈسٹریز کیمیکل بزنس کی پولرائیزنگ مرجر نے لی خاندان کے سام سنگ گروپ پر ہولڈ کو مضبوط کرنے میں بہت مد د دی.

سام سنگ گیلکسی ایس 8 کو بھی مسا ئل کا سامنا

لی کے والد نے اسکا انتخاب اس لیے کیا تاکہ وہ ایک دن کمپنی کا کنٹرول حاصل کر لے پر اب لی کی گرفتاری اور سزا نے کمپنی میں لی کے مستقبل اور کمپنی منیجمنٹ کے مستقبل کے بارے میں کئی سوال پیدا کر دئے ہیں. یہ سام سنگ الیکٹرانکس کے لئے ایک اہم وقت ہے کیونکہ اسی ہفتے ہی گیلکسی نوٹ 8 لانچ ہوا ہے.

samsung logo.1

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچاس کی دہائی میں جنگِ کوریا کے بعد جنوبی کوریا کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی پیش رفت میں سام سنگ کا بنیادی کردار رہا ہے.

Share: