سام سنگ کے نئے سمارٹ فون گیلیکسی ایس 8 میں استعمال ہونے والی ‘آئی سکیننگ ٹیکنالوجی’ یعنی آنکھ کی پتلی کے سکین سے کھلنے والے تالے کی ٹیکنالوجی کو دھوکہ دینا ممکن ہے۔ اسے کامیابی کے ساتھ ایک تصویر اور کانٹیکٹ لینس کے ذریعے کھولا گیا ہے۔ سام سنگ کا کہنا ہے کہ فون کو کھولنے کے لیے آئیرس سکینر ٹیکنالوجی ‘ایئر ٹائٹ سکیورٹی’ فراہم کرتی ہے یعنی وہ انتہائی محفوظ ہے لیکن مدر بورڈ نامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ کيوس کمپیوٹر کلب کے محققین نے آنکھ کی ایک تصویر سے سام سنگ کی سکیورٹی کو با آسانی دھوکہ دے دیا۔ سام سنگ نے بتایا کہ وہ اس واقعے سے باخبر ہیں۔ سام سنگ نے گذشتہ ماہ ہی اپنا نیا فون گیلیکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس لانچ کیا ہے۔ محققین نے پہلے ایس 8 کے ایرس سکینر میں ایک شخص کی آنکھ کو رجسٹر کر کے فون کی سکیورٹی قائم کی۔ پھر ایک ڈیجیٹل کیمرے میں انفرا ریڈ نائٹ وژن کی سیٹنگ کے ساتھ رضاکاروں میں سے ایک کی آنکھ کی تصویر لی اور پھر اس تصویر کا پرنٹ لے کر محققین نے اس پر کنٹیکٹ لینس رکھا۔ محققین کی ٹیم نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایس 8 سمارٹ فون کس طرح غلط آنکھ کے سامنے آنے سے کھل جاتا ہے۔

سام سنگ کا دعوی ہے کہ ایرس سکیننگ ٹیکنالوجی کا سیکورٹی کے لحاظ سے سخت تجربہ کیا گیا ہے تاکہ اس کی سکیورٹی کو توڑنے کی تمام تر کوششیں ناکام رہیں۔ کمپنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی میں کوئی خامی ہے یا پھر اسے توڑنے کا کوئی نیا طریقہ ہے تو کمپنی ایس 8 کی سکیورٹی کو محفوظ بنانے کے لیے جلد ہی اقدام کرے گی۔ سیکورٹی کے ماہر کین منرو کا کہنا ہے کہ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بايومیٹركس مسائل کا تیر بہدف حل نہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘ذاتی طور پر میں آئرس کو کھولنے کے لیے انگلی کے نشان یعنی فنگرپرنٹس کا استعمال کرتا ہوں۔ فون آپ کے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے اس لیے انگلیوں کا استعمال کیوں نہ کریں کہ اسے کھولنے کے لیے چہرے کے سامنے لائیں۔

انھوں نے مزید کہا: اگر آپ واقعی محفوظ ہونا چاہتے ہیں تو فنگر پرنٹ کے ساتھ کوئی خفیہ نمبر کا انتخاب کریں۔ اور اگر آپ آئیرس لاک استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اپنی آنکھوں کو بند کر کے چلیے تاکہ کوئی آپ کی آنکھوں کی تصویر نہ کھینچ لے۔ گیلیکسی ایس 8 میں سکیورٹی کے لیے آئیرس سکینر کی جگہ پاس ورڈ یا خفیہ نمبر کا بھی آپشن ہے۔

Share: